پنجاب کے ہسپتالوں میں کیو آر ایمرجنسی پینک بٹنز کی تنصیب شروع
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے لاہور سمیت صوبے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کیو آر پینک بٹنز لگانے کا آغاز کر دیا ہے۔ مریض اور ان کے لواحقین موبائل فون پر کوڈ اسکین کر کے خون سمیت فوری مدد طلب کر سکتے ہیں۔

- تنصیب کا کام لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں مرحلہ وار شروع ہوا ہے۔
- کوڈ اسکین کرنے پر ہسپتال کی تفصیل سامنے آتی ہے اور ہیلپ لائن 15 سے رابطہ ہو سکتا ہے۔
- سیف سٹی کی ٹیم مریض کو مطلوبہ بلڈ گروپ کے عطیہ دہندگان سے ملانے میں مدد کرے گی۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے لاہور سمیت پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کیو آر پینک بٹنز نصب کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کا مقصد طبی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو سیف سٹی کی ایمرجنسی خدمات تک تیز، آسان اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے رسائی دینا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر مرحلہ وار کیا جا رہا ہے۔ نظام ابتدا میں لاہور اور صوبے کے دیگر شہروں میں لگایا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی سہولیات بتدریج پورے صوبے میں فراہم کی جائیں گی۔
جو شہری پینک بٹن کو موبائل فون سے اسکین کرے گا، اس کے فون پر متعلقہ ہسپتال کی تفصیلات آ جائیں گی۔ موبائل نمبر درج کرنے کے بعد وہ ہیلپ لائن 15 کے ذریعے ہسپتال کے ورچوئل بلڈ بینک سے رابطہ کر سکتا ہے۔ رابطہ فون کال، لائیو چیٹ یا ویڈیو کال کے ذریعے ہو سکتا ہے۔
خون کی درخواست موصول ہونے پر سیف سٹی کی ٹیم مریض کو مطلوبہ بلڈ گروپ کے عطیہ دہندگان سے ملانے میں مدد کرے گی۔ ہیلپ لائن 15 پر کال کرنے والے خون کی ضرورت یا ابتدائی طبی امداد کی رہنمائی کے لیے 4 دبا سکتے ہیں۔
یہ پینک بٹنز صرف خون کی درخواست تک محدود نہیں ہیں۔ شہری دیگر ہنگامی حالات میں بھی کیو آر کوڈ کے ذریعے سیف سٹیز اتھارٹی سے فوری مدد مانگ سکتے ہیں۔
سیف سٹی کے ترجمان نے کہا کہ اس تنصیب سے شہریوں کو طبی ہنگامی صورتحال میں مدد حاصل کرنے کا آسان اور جدید طریقہ میسر آئے گا۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے ہسپتالوں میں بٹن لگیں گے یا مکمل عمل کب تک مکمل ہوگا۔
یہ کیوں اہم ہے
پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریض اور ان کے لواحقین موبائل فون پر کوڈ اسکین کر کے خون سمیت فوری مدد طلب کر سکتے ہیں۔



