ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار6 ذرائع سے تصدیق شدہ

پنجاب میں 1,995.3 ارب روپے کا پیوٹ اقتصادی منصوبہ 2026–29 شروع

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے 1,995.3 ارب روپے مالیت کا پیوٹ پلان 2026–29 شروع کر دیا ہے۔ اس کا ہدف 6.8 ارب ڈالر کی اضافی برآمدات اور 162,000 نئی براہِ راست ملازمتیں ہیں۔

Photo: money, coin, investment, business
Photo: money, coin, investment, business تصویر: nattanan23 / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • تین سالہ پیوٹ منصوبے کی مالیت 1,995.3 ارب روپے ہے
  • 6.8 ارب ڈالر اضافی برآمدات اور 162,000 براہِ راست ملازمتوں کا ہدف
  • اسٹیپ کے تحت 300 ارب روپے کی رعایتی فنانسنگ تجویز ہے
  • پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں پیوٹ سیکرٹریٹ قائم ہوگا
1,995.3 ارب روپےمنصوبے کا کل حجم
6.8 ارب ڈالراضافی برآمدات کا ہدف
162,000نئی براہِ راست ملازمتیں
906 ارب روپےنجی سرمایہ کاری کا ہدف

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں پنجاب انوویشن، ویلیو ایڈیشن اینڈ اکنامک ٹرانسفارمیشن (پیوٹ) پلان 2026–29 کا آغاز کر دیا۔ یہ 1,995.3 ارب روپے کی حکمت عملی ہے۔ تقریب میں اسٹیپ پورٹل بھی لانچ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق منصوبے کا ہدف 6.8 ارب ڈالر کی اضافی برآمدات، 162,000 نئی براہِ راست ملازمتیں اور دس لاکھ سے زائد افراد کے روزگار کی معاونت ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے تین سالہ منصوبہ پیش کیا۔

منصوبے میں 1,089 ارب روپے کی سرکاری سرمایہ کاری شامل ہے، جبکہ نجی شعبے سے 906 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے۔ 753.7 ارب روپے صنعتی پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور برآمدی مسابقت کے لیے رکھے گئے ہیں۔ شمسی توانائی اور بیٹری انرجی اسٹوریج کے لیے 50 ارب روپے اور مشینری پر ڈیوٹی کی واپسی کے لیے 50 ارب روپے مختص ہیں۔

اسٹریٹجک ٹریڈ اینہانسمنٹ پروگرام (اسٹیپ) کے تحت 300 ارب روپے کی رعایتی فنانسنگ صفر سے پانچ فیصد شرح پر دی جانے کی تجویز ہے، جو پروگرام کی شرائط سے مشروط ہوگی۔ توجہ گارمنٹس اور ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، چمڑا اور جوتے، سرجیکل آلات، ادویہ، پنکھے، کٹلری، اسٹیل اور سیرامکس پر ہے۔

پیوٹ میں سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں چار ایگرو پروسیسنگ پارکس اور 20 اضلاع میں ہارٹیکلچر اتھارٹیز شامل ہیں۔ تین سال میں 402,060 افراد کو تربیت دینے کا منصوبہ بھی ہے، جبکہ سیاحت، ڈیجیٹل خدمات اور افرادی قوت کی ترقی بھی اس کا حصہ ہیں۔

چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان نے بتایا کہ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ میں پیوٹ سیکرٹریٹ اور چیف سیکرٹری آفس میں پیوٹ سیل بنایا جائے گا۔ ہر ضلع میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر پیوٹ فوکل پرسن ہوگا۔

تقریب میں میاں منشا، عارف حبیب، فواد مختار، زیاد بشیر اور عثمان خالد وحید سمیت کاروباری شخصیات شریک تھیں۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد، بینکوں کے سربراہان، غیر ملکی سفیر اور ورلڈ بینک، اے ڈی بی اور اقوام متحدہ کے اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

مریم نواز شریف نے کہا: "Punjab is ready to move towards a new model of economic growth—one driven by industry, innovation, value addition and exports." انہوں نے یہ بھی کہا: "Government will facilitate, industry will lead."

یہ کیوں اہم ہے

منصوبے میں پنجاب کے اضلاع میں ملازمتوں، تربیت اور صنعتی سرمایہ کاری کا ہدف شامل ہے، جس کا اثر صوبے کے کارکنوں، برآمدکنندگان اور مقامی کاروبار پر پڑتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پنجابپیوٹ پلانبرآمدات

اس خبر پر مزید