ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

پنجاب کی سات میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں تبدیلی کا آرڈیننس

پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2026 پنجاب اسمبلی میں پیش کر کے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت سات سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو وسیع اختیارات ملیں گے۔

Reunion en la officina del Decano Universidad de Panama
Reunion en la officina del Decano Universidad de Panama تصویر: Saltrabook / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • آرڈیننس قائمہ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن کے سپرد کیا گیا ہے۔
  • وائس چانسلر چیف ایگزیکٹو اور چیف اکیڈمک آفیسر ہوں گے۔
  • فیصلہ ساز اداروں میں محکمہ خزانہ کی نمائندگی لازمی ہوگی۔
  • گورنر پنجاب نے 20 اکتوبر 2026 کو 90 دن کے لیے آرڈیننس کی منظوری دی۔
7شامل سرکاری میڈیکل یونیورسٹیاں
20 اکتوبر 2026گورنر کی منظوری کی تاریخ
90 دنآرڈیننس کی مدت

ایکسپریس نیوز اور ڈیلی پاکستان کی رپورٹس کے مطابق پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیز (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2026 پنجاب اسمبلی میں پیش کر کے قائمہ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس میں پنجاب کی سات سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔

تجویز کے مطابق وائس چانسلرز کو اپنی یونیورسٹیوں کے چیف ایگزیکٹو اور چیف اکیڈمک آفیسر کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ انہیں یونیورسٹی کے افسران، اساتذہ اور ملازمین کے ساتھ ساتھ الحاق شدہ کالجوں، ٹیچنگ ہسپتالوں اور دیگر اداروں پر بھی انتظامی کنٹرول حاصل ہوگا۔

آرڈیننس میں کئی میڈیکل کالجوں کی حیثیت سے متعلق ترامیم بھی شامل ہیں۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کو اس کی یونیورسٹی کے سب کالج کی حیثیت دوبارہ دی جائے گی۔ راولپنڈی میڈیکل کالج اور نشتر میڈیکل کالج ملتان کو اپنی متعلقہ یونیورسٹیوں کے سب کالج کی قانونی حیثیت دی جائے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور کو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دینے اور پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کو فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دینے کی تجویز بھی ہے۔

آرڈیننس میں سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے فیصلہ ساز اداروں میں محکمہ خزانہ کی نمائندگی لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔ ہر یونیورسٹی کے ادارے میں سیکریٹری خزانہ یا کم از کم ایڈیشنل سیکریٹری رینک کا نامزد افسر شامل ہوگا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گورنر پنجاب نے 20 اکتوبر 2026 کو آرڈیننس کی 90 دن کے لیے منظوری دی تھی۔ قائمہ کمیٹی کے جائزے کے بعد اسے منظوری کے لیے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، اور ایوان سے منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

یہ کیوں اہم ہے

ان تبدیلیوں سے پنجاب کی سات سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کا انتظام متاثر ہوگا، جس کا تعلق ان کے طلبہ اور ان سے منسلک ٹیچنگ ہسپتالوں اور کالجوں سے ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پنجابمیڈیکل یونیورسٹیاںہائر ایجوکیشن

اس خبر پر مزید