پنجاب میں فلم رائلٹی قانون کا منصوبہ، فلموں کے لیے ریبیٹ منظور
پنجاب حکومت نے فلم انڈسٹری کے لیے ملک کا پہلا رائلٹی قانون لانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ لاہور میں پنجاب فلم اتھارٹی کے پہلے اجلاس میں سامنے آیا۔

- رائلٹی قانون پنجاب فلم اتھارٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا
- پنجابی فلموں کو 35 فیصد اور اردو فلموں کو 20 فیصد ریبیٹ ملے گا
- لاہور میں فلم سٹی کا افتتاح 15 دسمبر کو ہوگا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فلم انڈسٹری کے لیے ملک کا پہلا رائلٹی قانون لانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد فنکاروں کے حقوق کا تحفظ بتایا گیا ہے۔ اعلان لاہور میں پنجاب فلم اتھارٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کی۔
منصوبے کے مطابق رائلٹی قانون اتھارٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس سے فلم انڈسٹری میں رائلٹی کا باقاعدہ ڈھانچہ طے ہوگا۔
صوبائی حکومت نے پنجاب میں بننے والی فلموں کے لیے ریبیٹ پالیسی بھی منظور کی۔ پنجابی زبان کی فلموں کو 35 فیصد اور اردو فلموں کو 20 فیصد ریبیٹ ملے گا۔ مقصد پیداواری لاگت کم کرنا اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔
اجلاس میں فلم سازوں کے لیے آن لائن ون ونڈو سہولت قائم کرنے کا فیصلہ بھی ہوا، جس سے وہ پنجاب بھر میں شوٹنگ کے مقامات تلاش کر سکیں گے اور اجازت نامے حاصل کر سکیں گے۔ اجلاس میں پنجاب فلم فنڈ کمیٹی سمیت چھ کمیٹیوں کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پنجاب لاہور میں فلم سٹی کا افتتاح 15 دسمبر کو کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس میں فلم اینڈ میوزک سکول، فلم میوزیم، فلم ٹریڈنگ ہاؤس، پوسٹ پروڈکشن سہولتیں، سٹوڈیو کمپلیکس اور پاکستان کا سب سے بڑا کنونشن سینٹر شامل ہوگا۔
فلم سٹی اتھارٹی کا 2026-27 کا تجویز کردہ بجٹ 58 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد ہے، جو فنانسنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 53 منظور شدہ آسامیوں میں سے 26 ملازمین کی بھرتی کی منظوری دی گئی، جبکہ عملے کی تقرری اور برطرفی کا اختیار اتھارٹی کے بورڈ کو ہوگا۔
پرانے سینماؤں کی بحالی، شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب اور آن لائن سینما بکنگ سسٹم کی منظوری بھی دی گئی۔ نوجوان فلم سازوں کے لیے تربیتی پروگرام منظور ہوا، جس میں بین الاقوامی ماہرین جدید فلم سازی کی تربیت دیں گے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ مریم نواز چاہتی ہیں کہ پنجاب پانچ سال میں عالمی معیار کی اسکرین ٹورازم منزل بنے، اور فلموں کے ذریعے صوبے کی ثقافت اور ورثہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔
یہ کیوں اہم ہے
پنجاب کے فلمی فنکار، پروڈیوسر اور کارکن رائلٹی کے مجوزہ ڈھانچے اور پنجابی و اردو فلموں کے ریبیٹ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔



