پنجاب حکومت کی عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظر بندی میں 30 روز توسیع
پنجاب حکومت نے علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کو پیر کو آگاہ کیا گیا اور عدالت نے نظر بندی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔

- علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی میں 30 روز کی توسیع
- لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا گیا اور درخواست نمٹا دی گئی
- پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا ایکس پر ردعمل
پنجاب حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی ہے۔ اردو اخبارات کے مطابق یہ نظر بندی ایم پی او کے تحت ہے۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کو پیر کے روز اس توسیع سے آگاہ کیا گیا۔ جسٹس ابھر گل خان تینوں خواتین کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے۔ درخواست میں پہلے 30 روزہ نظر بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی حراست جاری رکھنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
پنجاب حکومت کے لا آفیسر نے صوبائی سیکرٹری داخلہ کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر تینوں کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ تینوں خواتین کو بازیاب کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ درخواست میں ڈپٹی کمشنر کو فریق نہیں بنایا گیا، اس لیے وہ مقدمے کے دائرہ کار سے باہر حکم جاری نہیں کر سکتی۔ بعد ازاں سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی گئی۔ یہ درخواست علیمہ خان کے بیٹے شہریز نے دائر کی تھی۔
پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے ایکس پر لکھا کہ توسیع کی گئی ہے اور عدالت کو آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق پنجاب بھر میں پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکن بھی ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت زیر حراست ہیں، جن میں سے متعدد کے خلاف مقدمات درج نہیں اور انہیں اہل خانہ اور وکلا تک رسائی میں پابندیوں کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتیاطی نظر بندی کو منظم انداز میں سیاسی دباؤ اور مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول بہنوں کو خاندانی تعلق اور کارکنوں کو سیاسی وابستگی پر قید رکھنا امن و امان کے بجائے اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔ انہوں نے تمام زیر حراست سیاسی کارکنوں اور بہنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب ڈیلی ٹائمز کے مطابق راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق صادق آباد تھانے میں درج مقدمے کا محفوظ فیصلہ پانچویں بار مؤخر کر دیا۔ مقدمے میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان نامزد ہیں۔ اگلی تاریخ 26 نومبر ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 65 مشتبہ افراد اشتہاری قرار دیے گئے اور 12 شریک ملزمان اعترافِ جرم پر پہلے سزا پا چکے ہیں۔ علیمہ خان سمیت باقی 10 ملزمان کا ٹرائل مکمل ہو چکا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں کی نظر بندی ایک سیاسی پیش رفت ہے جو ملک کے سیاسی ماحول پر اثر ڈالتی ہے۔ ایک پارٹی رہنما کے مطابق اسی قانون کے تحت پارٹی کارکن بھی زیر حراست ہیں۔



