پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر 30 روز کی پابندی
محکمہ داخلہ پنجاب نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر صوبے بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر 30 روز کے لیے پابندی لگا دی ہے۔ بند مقامات پر محدود استعمال کی اجازت ہے جبکہ ضلعی کمیٹیاں منظور شدہ صورتوں میں تحریری اجازت دیں گی۔

- پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر 30 روز کی پابندی
- ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کی کوریج کے لیے چھوٹے ڈرون کی محدود اجازت
- انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مستثنیٰ
- ضلعی سیف ڈرون یوزیج کمیٹیاں تحریری اجازت دیں گی
پنجاب حکومت نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر صوبے بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ نے بدھ 28 اکتوبر 2026 کو اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور لاہور میں فیصلے کا اعلان کیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 144(6) کے تحت یہ پابندی لگائی ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی تحفظ، امن و امان کا قیام اور املاک کی حفاظت اس فیصلے کی بنیادی ترجیحات ہیں۔
نوٹیفکیشن کے تحت ہالز اور مارکیز کے اندر ہونے والی تقریبات کی کوریج کے لیے چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہوگی۔ ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اجازت بند مقامات کی تقریبات کے لیے ہے، اور ڈیلی پاکستان کے مطابق اس میں شادی ہالز بھی شامل ہیں۔ ایسی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر ہوگی۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق منتظمین کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ڈرون کے استعمال سے شرکا، عملے یا دیگر افراد کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے ڈرون استعمال کر سکیں گے، جبکہ دیگر افراد اور اداروں کو مقررہ ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔
محکمہ داخلہ نے ضلعی سطح پر سیف ڈرون یوزیج کمیٹیاں بھی بنائی ہیں، جو ڈرون کے محفوظ استعمال کی تحریری اجازت دیں گی۔ ان میں زرعی، آبپاشی اور تحقیقی مقاصد شامل ہیں۔ کمیٹی کی تحریری اجازت کے تحت ڈرون کا استعمال پابندی سے مستثنیٰ ہوگا۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد ڈرون کے استعمال کو ضابطے میں لانا اور سکیورٹی خدشات کم کرنا ہے۔
صوبے بھر میں انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ 30 روز کی پابندی کے دوران احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پابندی پورے پنجاب میں لاگو ہے اور ڈرون اڑانے والے ہر شخص پر اثر انداز ہوتی ہے، جن میں تقریبات کے منتظمین، کسان اور محققین شامل ہیں، جنہیں منظور شدہ صورتوں میں ضلعی کمیٹیوں سے تحریری اجازت لینا ہوگی۔



