بشریٰ بی بی کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے مکمل طبی معائنے اور آنکھوں کے علاج کی درخواست
بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں آنکھوں کے ماہر سے معائنے اور مکمل طبی ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا ہے۔ ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے ان کی آنکھوں کو "انتہائی نازک حالت" میں قرار دیا۔

- بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں آنکھوں کے علاج اور طبی ریکارڈ کے لیے درخواست دائر کی۔
- بیرسٹر سلمان صفدر نے ہفتے کو 2 نومبر کی جیل ملاقات پر حلف نامہ جمع کرایا۔
- انہوں نے اپنے خرچ پر ماہر ڈاکٹر سے علاج کی اجازت مانگی ہے۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان کی صحت کا مکمل معائنہ کرایا جائے اور آنکھوں کے ماہر سے فوری علاج کی سہولت دی جائے۔ یہ متفرق درخواست 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بیرسٹر سلمان صفدر اور وکیل خالد یوسف چوہدری کے ذریعے دائر کی گئی۔
درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت دے کہ وہ جامع طبی رپورٹ حاصل کریں اور متعلقہ طبی دستاویزات عدالت میں پیش کریں۔ اس میں آنکھوں کے ماہر سے فوری معائنے اور جیل کے میڈیکل افسر سے فوری مشاورت کی بھی استدعا ہے۔
انہوں نے اپنے خرچ پر ماہر ڈاکٹر سے علاج کی اجازت بھی مانگی ہے۔ درخواست کے مطابق ان کی آنکھوں کی حالت تیزی سے بگڑ رہی ہے اور بینائی بچانے کے لیے فوری طبی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ہفتے کو بیرسٹر سلمان صفدر نے اسی کیس میں حلف نامہ بھی جمع کرایا جس میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں میاں بیوی سے اپنی ملاقات کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھیں "انتہائی نازک حالت" (انگریزی سے ترجمہ) میں ہیں۔ حکام نے اس ہفتے کے اوائل میں کئی ماہ بعد ملاقات کی اجازت دی تھی۔
صفدر کے مطابق جیل حکام نے 31 اکتوبر کو بتایا کہ ملاقات 2 نومبر کو سہ پہر ساڑھے تین بجے ہوگی۔ ملاقات چار بجے شروع ہوئی اور تقریباً 40 منٹ جاری رہی۔
ان کے مطابق بشریٰ بی بی نے غیر معمولی طور پر گہرے رنگ کا چشمہ پہنا ہوا تھا اور اسے اتارنے پر وہ شدید تکلیف میں دکھائی دیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نہ دھوپ برداشت کر سکتی ہیں نہ مصنوعی روشنی، اور چشمے کے بغیر آنکھیں نہیں کھول سکتیں۔ صفدر نے کہا کہ عمران خان بھی ان کی بینائی کے بارے میں فکرمند نظر آئے۔
بشریٰ بی بی نے صفدر کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں پکا موتیا تشخیص کیا ہے اور 15 نومبر کے لگ بھگ آنکھ کا ایک اور آپریشن درکار ہوگا۔ انہوں نے جیل کی صفائی اور اپنے ساتھ سلوک پر عدم اطمینان بھی ظاہر کیا اور اپنے ڈاکٹروں سے معائنے کی درخواست کی۔ صفدر کے مطابق انہوں نے یقین دلایا کہ یہ معاملہ عدالت میں اٹھائیں گے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق صفدر کی عمران خان سے آخری ملاقات 9 اپریل کو 60 منٹ کی ہوئی تھی اور تب انہیں بشریٰ بی بی سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، مگر 20 اگست کو انہیں پمز لے جایا گیا، طبی طور پر فٹ قرار دیا گیا اور واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ درخواست 190 ملین پاؤنڈ کیس کا حصہ ہے جسے پاکستان میں قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔ عدالت کے فیصلے سے طے ہوگا کہ بشریٰ بی بی کا طبی ریکارڈ پیش ہوتا ہے یا نہیں اور کیا وہ اپنے خرچ پر اپنی پسند کے ماہر سے علاج کرا سکتی ہیں۔ معاملہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ایک قیدی کے علاج سے متعلق ہے۔



