ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

قومی اسمبلی تنازع کے بعد پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کا فضل الرحمٰن سے مکمل حمایت کا اعلان

پی ٹی آئی اور ٹی ٹی اے پی کے وفد نے جمعرات کو اسلام آباد میں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی اور قومی اسمبلی میں ان کی تقریر کی حمایت کی۔ وفد نے حکومتی وزرا کی جانب سے ان کی کردار کشی قرار دی جانے والی تنقید کی مذمت کی۔

Jatiyo Sangsad Bhaban , Bangladesh.
Jatiyo Sangsad Bhaban , Bangladesh. تصویر: Nahid Sultan & Saiful Aopu / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0
اہم نکات
  • پی ٹی آئی اور ٹی ٹی اے پی کے رہنماؤں نے جمعرات کو اسلام آباد میں فضل الرحمٰن سے ملاقات کی۔
  • وفد نے وزرا کی جانب سے مبینہ کردار کشی کی مذمت کی۔
  • محسن نقوی اور خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں ان پر تنقید کی تھی۔
  • فضل الرحمٰن نے انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی پر ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا۔
18 اکتوبروزرا کے سابقہ الزامات کی تاریخ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد نے جمعرات کو جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور قومی اسمبلی میں ان کی تقریر کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا، ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا۔

اسد قیصر نے ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ وفد میں ان کے ساتھ گوہر علی خان اور حسین احمد یوسفزئی شامل تھے اور انہوں نے اسلام آباد میں مولانا کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ ملاقات وزیر دفاع خواجہ آصف کے ساتھ فضل الرحمٰن کی عوامی نوک جھونک کے بعد اظہارِ یکجہتی کے لیے ہوئی۔

اسد قیصر کے بیان کے مطابق: "The visiting delegation expressed full support for Maulana Fazlur Rehman's speech in the National Assembly and strongly condemned the character assassination of the Jamiat Ulema-e-Islam chief by government ministers,"۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے اجلاس کے دوران اسمبلی میں فضل الرحمٰن پر تنقید کی۔ یہ تنقید تہران مذاکرات میں خواجہ آصف کی عدم موجودگی سے متعلق ان کے ریمارکس پر کی گئی۔ وزرا نے کہا کہ تہران میں کسی دفاعی معاہدے پر بات نہیں ہو رہی۔

فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا تھا کہ تہران میں مکہ دفاعی معاہدے پر بات چیت میں حکومت کا کیا کردار ہے، جبکہ وزیراعظم اور وزیر دفاع پاکستان ہی میں رہے۔

وفد نے عمران خان کی بہنوں کی قید کی بھی مذمت کی اور الزام لگایا کہ انہیں بنیادی حقوق، اہلِ خانہ سے ملاقات اور وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ وفد نے معطل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے پی کے صدر جنید اکبر خان کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا مشترکہ مطالبہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق شرکا نے خبردار کیا: "The participants warned that if any unpleasant situation arises as a result of this conduct, full responsibility will fall on the relevant authorities."

اخبار کے مطابق اکتوبر کے وسط میں محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی مخالفت پر فضل الرحمٰن پر تنقید کی تھی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے الزام لگایا تھا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کے ملزمان کا ساتھ دیتے ہیں۔ 18 اکتوبر کو وفاقی وزرا نے ان پر سکیورٹی صورتحال کو سیاسی بنانے کا الزام لگایا۔ فضل الرحمٰن نے ان باتوں کو کردار کشی قرار دیا، کہا کہ ان کی تنقید حکومتی پالیسیوں پر ہے نہ کہ ریاستی اداروں پر، اور انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی پر پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا۔

یہ کیوں اہم ہے

پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے تعلقات سے پاکستان میں سکیورٹی اور حکمرانی پر پالیسی بحث متاثر ہوتی ہے۔ یہ تنازع انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بحث سے بھی جڑا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

فضل الرحمٰنپی ٹی آئیقومی اسمبلی

اس خبر پر مزید