پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا کے پی میں گورنر راج ختم کرنے کا مطالبہ
پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے کثرت رائے سے قرارداد منظور کی ہے۔ اس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کر کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

- مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے کثرت رائے سے قرارداد منظور کی
- کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرنے اور سہیل آفریدی حکومت کی بحالی کا مطالبہ
- بانی کے علاج، رہنماؤں کی رہائی اور نئے انتخابات یا 8 فروری 2024 کے مینڈیٹ کی بحالی کے مطالبات
پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے، جو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل ہے، کثرت رائے سے قرارداد منظور کی۔ اس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج فوری ختم کرنے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اجلاس کی صدارت بیرسٹر گوہر نے کی اور یہ کئی گھنٹے جاری رہا۔ رپورٹ کے مطابق ارکان میں گرما گرمی ہوئی اور کچھ ارکان اجلاس ادھورا چھوڑ گئے۔ اعلامیے کے مطابق قرارداد میں بانی چیئرمین کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد ظاہر کیا گیا اور ان کی اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ بانی سے اہل خانہ، وکلا اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی ملاقاتیں بحال کی جائیں۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق متن میں سپریم کورٹ کی اگست 2026 کی ہدایات پر مکمل عمل کا مطالبہ ہے، جن میں آزادانہ طبی معائنہ، شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج اور ذاتی معالج کی شمولیت شامل ہے۔
خیبرپختونخوا کے بارے میں قرارداد میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو صوبائی خودمختاری اور آئین کے وفاقی اصولوں پر حملہ قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ غیر منتخب مشاورتی کونسل اور منتخب حکومت کے اختیارات منتقل کرنے والے انتظامات کو مسترد کیا گیا۔
قرارداد کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام یا منتخب حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ بانی کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عمر ایوب، شبلی فراز اور دیگر کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی مذمت کرتے ہوئے مسلح افواج، پولیس اور شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
دیگر مطالبات میں 8 فروری 2024 کے مینڈیٹ کی بحالی یا نئے شفاف انتخابات، 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی واپسی اور عدلیہ کی آزادی شامل ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری پر فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت پر اعتماد ظاہر کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے حکومت سے بامقصد مذاکرات ہونے چاہئیں اور گورنر راج کے بعد سے کچھ پتا نہیں کہ وزیراعلیٰ کہاں ہیں۔ اجلاس کے بعد چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ یہ غیر معمولی اجلاس اور پارلیمانی پارٹی کا پہلا سیشن تھا، مزید اجلاس ہوں گے اور فیصلے اپوزیشن رہنماؤں کے سامنے رکھے جائیں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
گورنر راج اور منتخب حکومت کی حیثیت کا تنازع خیبرپختونخوا کے لاکھوں رہائشیوں کے لیے صوبائی نظم و نسق اور سرکاری خدمات پر اثر ڈالتا ہے۔



