چیئرمین پی ٹی آئی کا وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی تبدیلی پر پابندی کا نوٹیفکیشن
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ رہیں گے۔ پارٹی ارکان کو متبادل پر تجویز یا بحث سے روک دیا گیا ہے۔

- گوہر علی خان نے وزیراعلیٰ کے پی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا۔
- رہنما اور عہدیدار تبدیلی پر ایجنڈا یا اجلاس نہیں کر سکتے۔
- متبادل نامزد کرنے یا فیصلہ بدلنے کا اختیار صرف عمران خان کو ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق آفریدی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اعتماد اور حمایت سے وزیراعلیٰ رہیں گے۔
نوٹیفکیشن کے تحت پارٹی رہنماؤں اور عہدیداروں پر وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا کوئی ایجنڈا پیش کرنے پر پابندی ہے۔ وزیراعلیٰ کی نامزدگی یا تبدیلی پر اجلاس بلانا منع ہے، جبکہ اس پر کسی تجویز یا بحث کی اجازت نہیں ہوگی۔
منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق ہدایت پارٹی ارکان، عہدیداروں، پارلیمنٹیرینز اور افسران پر لاگو ہے۔ انہیں ایسے اجلاس منعقد کرنے یا ان میں شرکت کرنے، ایجنڈا لانے اور بحث شروع کرنے سے روکا گیا ہے، اور متبادل امیدواروں پر غور بھی منع ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کسی دوسرے وزیراعلیٰ کو نامزد کرنے یا فیصلہ واپس لینے کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے متعلق بانی پی ٹی آئی کے فیصلے تمام پارٹی ارکان کے لیے حتمی اور پابند ہوں گے۔
تمام پی ٹی آئی ارکان اور عہدیداروں کو نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
منٹ مرر نے رپورٹ کیا کہ یہ ہدایت پارٹی کے اندر صوبائی قیادت اور سیاسی حکمت عملی پر اختلافات کی اطلاعات کے دوران آئی۔ اس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے حال ہی میں پارٹی تقسیم اور قیادت پر ایک دوسرے پر تنقید کی۔
رپورٹ کے مطابق گنڈاپور نے راجہ کے الزامات کے ثبوت مانگے اور معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ صوبائی ارکان عمران خان یا سیاسی کمیٹی کی منظوری کے بغیر اگلا وزیراعلیٰ منتخب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ کیوں اہم ہے
پی ٹی آئی کے اندر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے متعلق فیصلے صوبائی حکومت کے استحکام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔



