پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں سخت بحث، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان نے لانگ مارچ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے۔ پارٹی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

- ذرائع کے مطابق ارکان نے لانگ مارچ پر سوال اٹھائے اور مذاکرات پر زور دیا
- بیرسٹر علی ظفر کے مطابق اجلاس میں 70 سے زائد ارکان شریک ہوئے
- پارٹی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا
- جنگ کے مطابق 3 ارکان ناراض ہو کر چلے گئے
پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اجلاس دو بجے طلب کیا گیا تھا تاکہ اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال ہو۔
ایکسپریس نیوز کے ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کو خصوصی دعوت دی گئی تھی، مگر وہ شریک نہیں ہوئے۔ اچکزئی کوئٹہ میں اور ناصر عباس چکوال میں تھے۔ ذرائع کے مطابق اہم فیصلے دونوں کی موجودگی میں ہونا تھے۔
ڈیلی پاکستان نے ایکسپریس نیوز کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس کی صدارت بیرسٹر گوہر نے کی۔ اس میں موجودہ سیاسی صورت حال، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی، ارکان کی مبینہ گمشدگی اور دیگر معاملات پر گفتگو ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ارکان نے قیادت سے سوال کیا کہ پلان اے، بی، سی اور ڈی کا بہت شور مچا مگر عملی منصوبہ نظر نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور ایک صوبے میں حکومت چلی گئی، تو پارٹی کا ردعمل کہاں ہے۔
ذرائع کے مطابق ارکان نے اچکزئی کو مذاکرات کا ٹاسک دینے اور سیاسی رابطوں کی ناکامی پر بھی سوال کیا۔ ارکان کی اکثریت نے کہا کہ ہر صورت مذاکرات ہونے چاہئیں۔ نور الحق قادری نے تین بار مذاکرات کہا تو حاضرین نے تالیاں بجائیں۔ ارکان نے گورنر راج پر خاموشی ختم کر کے پارلیمانی پارٹی کو متحرک کرنے کی تجویز بھی دی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور کور و سیاسی کمیٹی کے ساتھ پارلیمانی کمیٹی کو مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ مشعال یوسفزئی نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت پر عدم اعتماد ظاہر کیا، جبکہ اسد قیصر نے ان کا دفاع کیا۔ فوزیہ ارشد نے پارٹی چیئرمین سے ارکان کے میڈیا بیانات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور خواجہ شیراز، علی محمد خان اور فیصل گنڈاپور ناراض ہو کر چلے گئے۔ فیصل امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہتے۔
بعد ازاں ڈیلی پاکستان اور 24 نیوز کے مطابق مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اجلاس میں 70 سے زائد ارکان شریک ہوئے، اہم فیصلے کیے گئے اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔
یہ کیوں اہم ہے
اپوزیشن جماعت کے اندر حکمت عملی اور مذاکرات پر بحث قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سیاست پر اثر ڈالتی ہے، جو ملک بھر کے قارئین کے لیے اہم ہے۔



