پی ٹی آئی کی اندرونی تقسیم کی تردید، ارکان کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر خبردار کر دیا
پی ٹی آئی نے پیر کو کہا کہ پارٹی میں کوئی گروہ بندی یا تقسیم نہیں۔ سیاسی کمیٹی نے نظم و ضبط یا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا۔

- پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے کہا کہ پارٹی میں کوئی تقسیم نہیں۔
- نظم و ضبط یا پالیسی توڑنے والوں کے خلاف یکساں اصولوں پر کارروائی کا انتباہ۔
- گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور عمران خان کے اہل خانہ کو رسائی دینے کا مطالبہ۔
پاکستان تحریک انصاف نے پیر کو کہا ہے کہ پارٹی میں کوئی گروہ بندی یا تقسیم نہیں ہے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق یہ بیان سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا، جس میں پارٹی امور اور ملک کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ پارٹی کے نظم و ضبط یا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی رکن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے مطابق کارروائی یکساں اصولوں پر ہوگی اور غیر ذمہ دارانہ بیانات اور تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔
کمیٹی نے کہا: "پوری پارٹی عمران خان کی قیادت، ان کے نظریے اور ان کے مشن کے ساتھ متحد ہے۔ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر تمام رہنما اور کارکن مشترکہ مقاصد کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔" (انگریزی سے ترجمہ) بزنس ریکارڈر کے مطابق پارٹی نے حکومت پر اپنے رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف سیاسی انتقام تیز کرنے کا الزام بھی لگایا۔
اجلاس میں عمران خان اور ان کے اہل خانہ کی قید، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور خیبر پختونخوا کے اہم رہنماؤں کے مسائل پر بھی بات ہوئی۔ کمیٹی نے آفریدی، خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبے میں 11 اکتوبر کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت حراست میں لیے گئے دیگر ارکان صوبائی اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
عمران خان کی صحت کے بارے میں کمیٹی نے اس اطلاع پر تشویش ظاہر کی کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو اہل خانہ کو اعتماد میں لیے بغیر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ کمیٹی نے کہا: "اہل خانہ کو بروقت آگاہ نہ کرنا بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) اس نے سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری اور مکمل عمل، اہل خانہ کو باقاعدہ اطلاع اور ملاقات کی سہولت دینے کا مطالبہ کیا۔ بشریٰ بی بی کے لیے مناسب طبی سہولتیں اور ملاقاتوں کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
کمیٹی نے عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا، جو ستمبر کے آخر سے مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت زیر حراست ہیں، اور انہیں بھائی سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی کہا۔ کمیٹی نے کہا: "اہل خانہ کو اپنے عزیز کی خیریت دریافت کرنے اور ان سے ملنے کے بنیادی حق سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ)
کمیٹی نے مبینہ گرفتاریوں، خاص طور پر ایم پی او کے تحت، پر شدید تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی کو انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ اس نے عمر ایوب خان، شیر علی ارباب، شاہ احد اور دیگر رہنماؤں کے گھروں پر مبینہ چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں قابل مذمت قرار دیا۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ مرکزی اپوزیشن جماعت قیادت کے زیر حراست ہونے کے دوران اندرونی اختلافات کی اطلاعات سے کیسے نمٹ رہی ہے، جس کا اثر قومی سیاست پر پڑتا ہے۔



