پاور ڈویژن کا انتباہ: سردیوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے
پاور ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ دسمبر سے فروری کے دوران بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے۔ نیپرا نے ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ میں 2.56 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔

- پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق دسمبر سے فروری میں فیول ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے۔
- نیپرا نے ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ میں 2.56 روپے فی یونٹ اضافے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
- سردیوں میں لوڈ مینجمنٹ بڑھنے کا امکان ہے۔
ٹیک جوس اور ایکسپریس نیوز کے مطابق پاور ڈویژن ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ دسمبر سے فروری کے دوران بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔ پاور ڈویژن نے دسمبر، جنوری اور فروری کو بجلی صارفین کے لیے سب سے مشکل مہینے قرار دیا ہے۔
ذرائع نے کئی وجوہات بتائیں۔ ایل این جی، کوئلے اور دیگر ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سردیوں میں پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی فراہمی کم پڑنے کا امکان ہے، جبکہ پن بجلی کی پیداوار بھی نمایاں کم ہونے کی توقع ہے، جس سے مہنگے ایندھن پر انحصار بڑھے گا۔
حالیہ مہینوں میں حکام نے دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے صارفین پر بوجھ محدود رکھا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق دسمبر سے فروری کے دوران لوڈ مینجمنٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس مداخلت کے بغیر ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتی تھی۔
ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ 2.56 روپے فی یونٹ بڑھانے کی درخواست پر نیپرا نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔ منظوری کی صورت میں کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین پر 32.66 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے حکام کے مطابق ستمبر میں بجلی کی اوسط ایندھن لاگت 10.02 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ تخمینہ 7.46 روپے تھا۔ مہینے کی کل پیداواری لاگت 127.87 ارب روپے رہی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے 12.76 ارب یونٹ فروخت کیے۔
ایندھن کے لحاظ سے درآمدی کوئلے پر 37.14 ارب روپے، ایل این جی پر 31.93 ارب، مقامی گیس پر 13.89 ارب، ڈیزل پر 13.26 ارب، فرنس آئل پر 11.81 ارب اور مقامی کوئلے پر 7.95 ارب روپے لاگت آئی۔
ایکسپریس نیوز نے یہ بھی بتایا کہ ایل پی جی کی قیمت کم نہیں ہوئی اور سرکاری و مارکیٹ قیمت میں 300 روپے کا فرق برقرار ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
ملک بھر کے گھریلو صارفین کو دسمبر سے فروری کے دوران بجلی کے کہیں زیادہ بلوں اور لوڈ مینجمنٹ میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔



