ابھی ابھی
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

وزیراعظم کا سبسڈی والا ایندھن نہ دینے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم

وزیراعظم شہباز شریف نے رجسٹرڈ مستحقین کو سبسڈی والا ایندھن دینے سے انکار کرنے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فیول ریلیف پروگرام میں ڈیڑھ کروڑ 55 لاکھ سے زائد شہری رجسٹر ہو چکے ہیں۔

وزیراعظم کا سبسڈی والا ایندھن نہ دینے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم
تصویر: SatyaPrem / Pixabay
اہم نکات
  • وزیراعظم شہباز شریف نے خلاف ورزی کرنے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا۔
  • فیول ریلیف پروگرام میں 15,519,282 شہری رجسٹر ہو چکے ہیں۔
  • 4 نومبر تک 28.6 ارب روپے ادا کیے جا چکے تھے۔
15,519,282رجسٹرڈ شہری
100 روپےفی لیٹر سبسڈی
28.6 ارب روپے4 نومبر تک ادائیگیاں
75 ارب روپےاسکیم کے لیے مختص رقم

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف پروگرام کے رجسٹرڈ مستحقین کو سبسڈی والا ایندھن دینے سے انکار کرنے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ ایکسپریس ٹریبیون اور ڈیلی ٹائمز کے مطابق یہ حکم انہوں نے اسلام آباد میں پی ایم آفس میں پروگرام کا جائزہ لینے کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیا۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ رجسٹرڈ مستحقین کو سبسڈی والا ایندھن حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق انہوں نے پروگرام پر عمل درآمد اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا اور وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، سیکریٹری آئی ٹی زرار ہاشم خان اور ان کی ٹیم کو مانیٹرنگ اور ڈیش بورڈ نظام بنانے پر سراہا۔

پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15,519,282 شہری رجسٹر ہو چکے ہیں۔ ان میں 15.06 ملین موٹر سائیکل مالکان ہیں، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کی تعداد رپورٹس کے مطابق 449,000 سے 449,800 کے درمیان ہے۔ مجموعی طور پر 63,153,685 فیول ٹوکن جاری ہوئے اور 59,445,347 استعمال ہوئے، یعنی شرح 94 فیصد سے کچھ زائد رہی، ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا۔

اسی رپورٹ کے مطابق 4 نومبر تک 28.6 ارب روپے ادا کیے جا چکے تھے، جو مختص رقم کا 38 فیصد ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 14 ستمبر کو اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے تھے۔ صارفین اور پیٹرول پمپس کے لیے معلومات اور شکایات کے اندراج کی خاطر الگ الگ کال سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق یہ اسکیم ستمبر میں موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے اعلان کی گئی تھی۔ دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر کوٹے پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی ملتی ہے۔ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پر اتنی ہی سبسڈی ملتی ہے۔

شہباز شریف نے کہا: "رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول کا طریقہ آسان بنانے کے نتیجے میں رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ مستحق شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔" (انگریزی سے ترجمہ) ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے اسے مستقبل میں ایسے عوامی فلاحی اقدامات کے لیے "گیم چینجر" بھی قرار دیا۔

اسی اجلاس میں وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے طویل مدتی فنانسنگ تک رسائی میں 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بینک کو ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 5 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ وزیراعظم نے سبسڈی والا ایندھن نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہمارے ریکارڈ کے مطابق 7 نومبر کو پیٹرول 346 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 378 روپے فی لیٹر تھا۔

یہ کیوں اہم ہے

رجسٹرڈ مستحقین مقامی پمپس سے سبسڈی والا ایندھن خریدتے ہیں، اس لیے یہ حکم ان کی روزمرہ ایندھن تک رسائی سے جڑا ہے۔ رجسٹرڈ افراد میں 15.06 ملین موٹر سائیکل مالکان ہیں۔ اہل دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو 30 لیٹر تک 100 روپے فی لیٹر رعایت مل سکتی ہے۔ انکار کرنے والے پمپس کو اب لائسنس منسوخ ہونے کا خطرہ ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

فیول ریلیف پروگرامپیٹرول پمپسشہباز شریف

اس خبر پر مزید