ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

1500 پاکستانی پائلٹس بے روزگار، ایئرلائنز میں غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی پر تشویش

ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے مطابق 1500 سے زائد پاکستانی پائلٹس مبینہ طور پر بے روزگار ہیں جبکہ مقامی ایئرلائنز نے 150 سے زائد غیر ملکی پائلٹس رکھے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے ان کی بھرتی کے قواعد پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: plane, flight, sunset, sun
Photo: plane, flight, sunset, sun تصویر: ThePixelman / Pixabay
اہم نکات
  • ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ 1500 سے زائد پاکستانی پائلٹس بے روزگار اور 150 سے زائد غیر ملکی پائلٹس مقامی ایئرلائنز میں کام کر رہے ہیں۔
  • بانی عمران اسلم خان نے 29 اکتوبر کو سیکریٹری دفاع کو خط لکھا۔
  • غیر ملکی پائلٹس سے متعلق ضوابط کی تبدیلیوں پر نظرثانی اور انہیں واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
1500 سے زائدمبینہ طور پر بے روزگار پاکستانی پائلٹس
150 سے زائدمقامی ایئرلائنز میں غیر ملکی پائلٹس
15 ہزار امریکی ڈالربتائی گئی زیادہ سے زیادہ ماہانہ تنخواہ
2.25 ملین امریکی ڈالر سے زائدماہانہ اندازاً بیرون ملک رقم

ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن پاکستان نے 1500 سے زائد پاکستانی پائلٹس کی مبینہ بے روزگاری اور مقامی ایئرلائنز میں 150 سے زائد غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی کے قواعد پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے بانی عمران اسلم خان نے 29 اکتوبر کو سیکریٹری دفاع کو خط لکھا۔ خط میں ایوی ایشن ڈویژن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور مقامی ایئرلائنز میں پاکستانی پائلٹس کو ملازمت اور تربیت دینے کو ترجیح دلانے کے اقدامات کرے۔

خط کے مطابق غیر ملکی پائلٹس کی بھرتی سے اہل پاکستانی پائلٹس کے روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مقامی ایئرلائنز میں کام کرنے والے غیر ملکی پائلٹس کو مبینہ طور پر ماہانہ 15 ہزار امریکی ڈالر تک ٹیکس سے مستثنیٰ تنخواہ دی جاتی ہے۔

ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق اگر 150 سے زائد غیر ملکی پائلٹس کو یہ تنخواہیں ملیں تو ماہانہ 2.25 ملین امریکی ڈالر سے زائد بیرون ملک جا سکتے ہیں، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 62 کروڑ 32 لاکھ 50 ہزار روپے بنتے ہیں۔

خط میں ایئربلو، فلائی جناح اور ایئرسیال کے نام لیے گئے ہیں۔ الزام ہے کہ یہ ایئرلائنز پاکستانی پائلٹس کی تربیت اور طیاروں کی ٹائپ ریٹنگ پر سرمایہ کاری کے بجائے غیر ملکی پائلٹس پر انحصار کرتی ہیں۔ خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی پائلٹس کی تربیت اور ٹائپ ریٹنگ کا خرچ غیر ملکی پائلٹس کی ماہانہ تنخواہوں سے کم ہے۔

ایسوسی ایشن نے غیر ملکی پائلٹس کے پاکستان میں کام کرنے کی مدت میں مبینہ تبدیلی پر بھی اعتراض کیا ہے۔ خط کے مطابق پہلے انہیں چھ ماہ کام کی اجازت تھی، جس میں مزید چھ ماہ توسیع ہو سکتی تھی، مگر بعد میں یہ مدت تین سال کر دی گئی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس تبدیلی سے پہلے ایوی ایشن صنعت کے متعلقہ فریقوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔

ایسوسی ایشن کو خدشہ ہے کہ ایئرلائنز کریو روٹیشن انتظامات کے ذریعے اس سہولت کو طویل عرصے تک استعمال کر سکتی ہیں۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ ضوابط کی تبدیلیوں پر نظرثانی کر کے انہیں واپس لیا جائے، کریو روٹیشن کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے نگرانی سخت کی جائے اور مقامی ایئرلائنز کو اہل پاکستانی پائلٹس بھرتی کرنے اور تربیت دینے کا پابند بنایا جائے۔

عمران اسلم خان کے مطابق تربیت یافتہ پاکستانی پائلٹس کی موجودگی کے باوجود غیر ملکی عملے پر انحصار مقامی ایوی ایشن صنعت کی ترقی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ نوائے وقت کے مطابق ایسوسی ایشن نے یہ خط سیکریٹری دفاع کو بھیجا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ دعوے پاکستانی پائلٹس کے روزگار کے امکانات اور مقامی ایئرلائنز کے غیر ملکی عملہ رکھنے کے قواعد سے متعلق ہیں۔ ایسوسی ایشن اس معاملے کو زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ سے بھی جوڑتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پائلٹسایوی ایشنایئرلائنز

اس خبر پر مزید