قومی اسمبلی میں پیٹرولیم اور کلائمیٹ لیوی کی ادائیگی لائسنس کی شرط بنانے کا بل پیش
قومی اسمبلی میں بدھ کو پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی ادائیگی کو لائسنس کی شرط بنانے کا بل پیش کیا گیا۔ بل میں جرمانے، لائسنس معطلی اور عدم ادائیگی پر تین سال تک قید کی تجویز ہے۔

- بل وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں پیش کیا
- لیوی کی ادائیگی اوگرا لائسنس کی شرط ہوگی
- تاخیر پر سرچارج اور عدم ادائیگی پر 3 سال تک قید کی تجویز
- ریفائنریز اور مارکیٹنگ کمپنیاں ماہانہ ادائیگی کا گوشوارہ جمع کرائیں گی
قومی اسمبلی میں بدھ کو پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی آرڈیننس ترمیمی بل 2026 پیش کیا گیا۔ روزنامہ جنگ اور ڈیلی پاکستان کے مطابق بل وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔
بل میں تجویز ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، ریفائنریز اور دیگر لائسنس ہولڈرز پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی ادا کرنے کے پابند ہوں۔ ان لیویز کی ادائیگی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا لائسنس حاصل کرنے کی شرط ہوگی۔
جنگ کے مطابق ریفائنریز کو لیویز پیشگی ادا کرنا ہوں گی، یعنی مصنوعات کے ریفائنری گیٹ سے نکلنے سے پہلے۔ رپورٹس کے مطابق ہر کمپنی اور ریفائنری کو لیوی کی ادائیگی کا ماہانہ گوشوارہ بھی جمع کرانا ہوگا۔
تاخیر سے ادائیگی پر چھ ماہ کے کائبور کے 1.5 گنا یا 12 فیصد سالانہ جرمانے کی تجویز ہے۔ 24 نیوز نے 12 فیصد کو کم از کم سالانہ شرح قرار دیا۔ بل کے تحت واجب الادا لیوی کcustoms ایکٹ 1969 اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت بیک وقت وصول کی جا سکے گی۔
جرمانہ ادا نہ کرنے پر اوگرا کو کمپنی کا لائسنس معطل کرنے کا اختیار ہوگا۔ 24 نیوز کے مطابق اتھارٹی قواعد کی خلاف ورزی یا لیوی ادا نہ کرنے پر لائسنس معطل یا منسوخ بھی کر سکے گی۔
لیوی یا جرمانہ ادا نہ کرنے پر تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ 24 نیوز کے مطابق جرمانہ لیوی کی رقم کے برابر ہوگا۔
کمپنی کے تمام ڈائریکٹرز کے خلاف کارروائی ہو سکے گی، اور کمپنی یا فرم کے جرم کی صورت میں ڈائریکٹرز اور شراکت داروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے گا۔ آڈٹ کے اخراجات متعلقہ کمپنی، ریفائنری یا لائسنس ہولڈر برداشت کرے گا۔
یہ کیوں اہم ہے
بل ان لیویز کی وصولی کا طریقہ بدلتا ہے جو صارفین کے ادا کردہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا حصہ بنتی ہیں۔



