ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

پشاور: خستہ حال اسکولوں کی عمارتوں سے طلبہ کو منتقل کرنے کا حکم

پشاور میں ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے خطرناک قرار دی گئی عمارتوں سے طلبہ کو منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے انجینئروں کے جائزے کے بعد کیا گیا۔

Photo: school, house, building, nature
Photo: school, house, building, nature تصویر: ddzphoto / Pixabay
اہم نکات
  • تکنیکی ماہرین کی جانب سے خطرناک قرار دی گئی عمارتوں سے طلبہ کو منتقل کیا جائے گا۔
  • تمام ضلعی ایجوکیشن افسروں کو مراسلے بھیجے گئے ہیں۔
  • باقی حصہ محفوظ ہو تو صرف خطرناک کمرے یا حصے سیل ہوں گے۔
  • صوبائی حکومت مرمت کے لیے ہنگامی فنڈز دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پشاور میں ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے خطرناک اور خستہ حال اسکولوں کی عمارتوں سے طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی فوری ہدایات جاری کی ہیں۔ تمام ضلعی ایجوکیشن افسروں کو مراسلے بھیجے گئے ہیں جن میں اسکول انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ تکنیکی ماہرین کی نشاندہی کردہ خطرناک عمارتیں فوراً خالی کرائی جائیں۔

یہ فیصلہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) محکمے کے انجینئروں کے حفاظتی جائزوں کے بعد کیا گیا۔ نوائے وقت کے مطابق سی اینڈ ڈبلیو اور تکنیکی ماہرین نے متعدد اسکولوں کی عمارتوں کو خطرناک قرار دیا ہے۔

ہدایات کے مطابق اسکول سربراہان داخل طلبہ کو بلا تاخیر اپنے کیمپس کے محفوظ حصوں یا قریبی سرکاری اسکولوں میں منتقل کریں گے۔ اگر قریب کوئی سرکاری عمارت دستیاب نہ ہو تو کلاسوں کے لیے متبادل نجی عمارتیں کرائے پر لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ضلعی تعلیمی ٹیمیں قریبی عمارتوں کی نشاندہی کر رہی ہیں تاکہ منتقلی میں آسانی ہو، جبکہ مقامی انتظامی کمیٹیاں جگہ کی تقسیم کی نگرانی کر رہی ہیں۔

اسکول سربراہان پورے کیمپس بند کرنے کے بجائے صرف خطرناک کمرے یا کمزور ڈھانچے والے حصے سیل کریں گے، بشرطیکہ باقی حصے محفوظ قرار دیے جائیں۔ اسٹرکچرل انجینئر فالو اپ معائنے کر کے متاثرہ اسکولوں میں خطرناک حدود کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ باقاعدہ مرمت شروع ہونے تک عملہ طلبہ کو خطرناک حصوں میں جانے سے روکے گا اور حفاظتی نگران ان حدود پر عمل کرائیں گے۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق پشاور کی ڈیر کالونی میں ایک عمارت گرنے کی تحقیقات میں ناقص تعمیراتی معیار اور ڈھانچے کی خرابیاں وجہ قرار پائیں۔ عوامی حلقوں اور والدین نے صوبے بھر کی تمام تعلیمی عمارتوں کے فوری حفاظتی آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صوبائی محکمہ تعلیم نے تمام اضلاع میں ڈھانچوں کی جانچ شروع کر دی ہے۔

ضلعی ایجوکیشن افسر طلبہ کی منتقلی اور عمارتیں سیل کرنے کی روزانہ رپورٹ مرکزی ڈائریکٹوریٹ کو بھیج رہے ہیں۔ صوبائی حکومت متاثرہ سرکاری اسکولوں کی مرمت، تزئین یا دوبارہ تعمیر کے لیے ہنگامی فنڈز مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور سول ورکس کے محکمے تعمیر نو کے تکنیکی تخمینے تیار کر رہے ہیں۔ تعلیمی منصوبہ ساز مرمت مکمل ہونے پر معمول کی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنا چاہتے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پشاور کے طلبہ اور والدین متاثر ہوتے ہیں کیونکہ غیر محفوظ عمارتیں سیل اور مرمت ہونے تک کلاسیں دوسری عمارتوں میں منتقل ہو سکتی ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پشاوراسکولوں کی حفاظتتعلیم

اس خبر پر مزید