پشاور: حسن خیل تھانے پر کواڈ کاپٹر سے حملہ جال کے باعث ناکام
پشاور کے نواح میں حسن خیل پولیس اسٹیشن پر کواڈ کاپٹر سے گرایا گیا دھماکا خیز مواد اینٹی ڈرون جال میں پھنس گیا اور حملہ ناکام رہا۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ بم ڈسپوزل یونٹ نے بم ناکارہ بنایا۔

- کواڈ کاپٹر کا دھماکا خیز مواد تھانے کی چھت پر لگے اینٹی ڈرون جال میں پھنس گیا۔
- پولیس نے بم ڈسپوزل یونٹ کو بلایا اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
- خیبر پختونخوا میں تھانوں اور چوکیوں پر جال تقریباً ایک ماہ قبل لگائے گئے تھے۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق پشاور کے نواح میں واقع حسن خیل پولیس اسٹیشن پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام رہی۔ کواڈ کاپٹر کے ذریعے لایا گیا دھماکا خیز مواد تھانے کی چھت پر نصب اینٹی ڈرون جال میں پھنس گیا اور عمارت تک نہیں پہنچ سکا۔
ڈیلی ٹائمز نے ابتدائی پولیس رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ بدھ کی صبح پیش آیا، جب نامعلوم شرپسندوں نے کواڈ کاپٹر سے دھماکا خیز مواد گرانے کی کوشش کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سی سی پی او میاں سعید نے کہا کہ دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا اور کواڈ کاپٹر سے گرایا گیا بم شیل لوہے کے جال کی وجہ سے نہ پھٹ سکا۔ انہوں نے حملے کی ناکامی کا سبب خیبر پختونخوا میں کیے گئے حفاظتی اقدامات کو قرار دیا۔
پولیس نے بم ڈسپوزل یونٹ کو طلب کیا جس نے بم ناکارہ بنایا۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق مشتبہ دھماکا خیز مواد کے خول کے طور پر انرجی ڈرنک کی بوتل استعمال کی گئی تھی، جس میں کیلیں اور بولٹ بھی موجود تھے۔
پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال اور حملہ آوروں کے بارے میں تفصیلات کا انتظار ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس نے تقریباً ایک ماہ قبل ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے تھانوں اور چیک پوسٹوں پر لوہے کے جال لگائے تھے، کیونکہ ان سے نقصان کم ہوتا ہے۔
ڈیلی ٹائمز نے یہ بھی بتایا کہ پشاور سیف سٹی پروجیکٹ کے مرکزی کمانڈ سسٹم کو ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا ہے، جو پاکستان میں کسی سیف سٹی منصوبے کے ساتھ ڈرون یونٹ اور اینٹی ڈرون سسٹم کا پہلا انضمام بتایا گیا ہے۔
اینٹی ڈرون سسٹم پانچ کلومیٹر تک ریڈار کوریج میں ڈرونز کی نگرانی کرتا ہے اور خودکار الرٹ جاری کرتا ہے۔ مشتبہ سرگرمی پر سیف سٹی کنٹرول روم کو فوری اطلاع ملتی ہے۔ ڈرون نگرانی پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت میں بھی ہوگی، اور لائیو فیڈ سے حکام کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی معاونت کر سکیں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
پولیس پر حملے پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی اور تھانوں کے قریب رہنے والے خاندانوں اور شہریوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ واقعہ اس ڈرون خطرے کو ظاہر کرتا ہے جس سے نمٹنے کی تیاری پولیس کر رہی ہے۔



