ابھی ابھیلاہور ہائیکورٹ: اہل ڈیلی ویجز ہیلتھ ملازمین کو مستقل ورکرز کے حقوق حاصلایزی پیسہ کا نو ماہ میں 13.3 ارب روپے قبل از ٹیکس منافعیوکرین کے امدادی مرکز پر روسی حملوں میں کم از کم 26 ہلاک، حکام
پاکستان4 ذرائع سے تصدیق شدہ

اسلام آباد میں پاکستان واٹر ویک 2026 کا آغاز، پارلیمانی تعاون کا اعلان

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پیر کو اسلام آباد میں چھٹے پاکستان واٹر ویک کا افتتاح کیا۔ انہوں نے قانون سازی، نگرانی اور بجٹ مختص کرنے کے ذریعے آبی تحفظ کے عہد کی حمایت کا اعلان کیا۔

Photo: water, minerals, bottle, plastic
Photo: water, minerals, bottle, plastic تصویر: PublicDomainPictures / Pixabay
اہم نکات
  • پانچ روزہ کانفرنس 2 سے 6 نومبر تک اسلام آباد میں جاری رہے گی۔
  • چیئرمین سینیٹ گیلانی نے آبی تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیا۔
  • افتتاحی اجلاس میں 200 سے زائد شرکاء موجود تھے۔
2 سے 6 نومبرکانفرنس کی تاریخیں
تقریباً 1,000 مکعب میٹرفی کس پانی کی موجودہ دستیابی
تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ2022 کے سیلاب سے متاثرہ افراد
200 سے زائدافتتاحی اجلاس کے شرکاء

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پیر کو اسلام آباد میں چھٹے پاکستان واٹر ویک کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی، نگرانی اور بجٹ مختص کرنے کے ذریعے اس موقع پر کیے گئے عہد کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی، اور آبی تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیا۔

کانفرنس 2 سے 6 نومبر تک جاری رہے گی اور اس کا مرکزی موضوع آبی تحفظ اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط غذائی نظام ہے۔ افتتاحی اجلاس میں 200 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔ پروگرام میں دو موضوعاتی سلسلے ہیں جن میں سے ہر ایک میں 13 اجلاس ہوں گے، جبکہ مکمل اجلاس الگ ہوں گے۔ اختتامی تقریب 5 نومبر کو شیڈول ہے۔

کانفرنس کا اہتمام انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) اور CGIAR پالیسی انوویشنز سائنس پروگرام نے پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز اور وزارت آبی وسائل کے اشتراک سے کیا۔

گیلانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو دیکھنا چاہیے کہ آبی پالیسیاں کسانوں اور سیلاب اور قلت سے متاثرہ لوگوں کی زندگی میں بہتری لاتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے صوبائی آبی قوانین پر مکمل عمل درآمد اور زیرِ زمین پانی کے بہتر انتظام پر زور دیا۔ ان کے مطابق شمسی پمپوں سے کسانوں کو فائدہ ہوا ہے مگر زیرِ زمین پانی نکالنے کے لیے قواعد ضروری ہیں۔ انہوں نے آبی ذخائر کو ضابطے میں لانے، منصوبہ بند ری چارج اور سیلابی پانی سے زیرِ زمین ذخائر بھرنے کی تجویز دی۔

گیلانی کے مطابق 2022 کے سیلاب سے تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 70 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے، اور فی کس پانی کی دستیابی 5,000 مکعب میٹر سے زیادہ سے گھٹ کر تقریباً 1,000 مکعب میٹر رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا: "بہت زیادہ پانی اور بہت کم پانی، کبھی کبھی ایک ہی سال میں انہی اضلاع میں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "ردعمل لچک نہیں ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ ان کے مطابق قابلِ اعتماد ڈیٹا کے تبادلے سے صوبوں کے درمیان اعتماد بڑھ سکتا ہے، اور خواتین، نوجوانوں اور کاشتکار برادریوں کو آبی انتظام میں شریک بنانا ضروری ہے۔

گیلانی نے دہرایا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کو درست اور پابند کن سمجھتا ہے۔ انہوں نے 2047 تک پاکستان کو پانی کے لحاظ سے محفوظ اور سیلاب کے مقابل مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔

IWMI پاکستان کے کنٹری نمائندے ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ ہر اجلاس سے واضح عہد، ذمہ دار فریق اور وقت کا تعین سامنے آنا چاہیے۔ IWMI کے اسٹریٹجک پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا کہ پاکستان کے پاس شواہد اور خیالات موجود ہیں مگر ان پر عمل کے لیے مشترکہ عزم درکار ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان میں پانی کی فراہمی اور زراعت کا انحصار آبی پالیسی پر عمل درآمد پر ہے، اور کانفرنس کا محور آبی تحفظ اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط غذائی نظام ہے۔ گیلانی کے مطابق پالیسیوں کو کسانوں اور سیلاب سے متاثرہ برادریوں کے کام آنا چاہیے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

آبی تحفظاسلام آبادموسمیاتی تبدیلی

اس خبر پر مزید