ابھی ابھیحکومت کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار، بعض شعبوں کو ایندھن میں رعایتامریکی وسط مدتی انتخابات 2026: کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ووٹروں کے ہاتھ میںپیٹرولیم قیمتوں میں مزید ریلیف کا عندیہ، ایل پی جی مارکیٹ مسابقت کے لیے کھلے گی
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور ہائیکورٹ: اہل ڈیلی ویجز ہیلتھ ملازمین کو مستقل ورکرز کے حقوق حاصل

لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے اہل ڈیلی ویجز، ورک چارجڈ اور کنٹیجنٹ پیڈ ملازمین کو مستقل ورکرز کا درجہ نہ دینے کے سرکاری احکامات غیر قانونی قرار دے دیے۔ جسٹس خالد اسحاق نے 26 آئینی درخواستیں منظور کیں۔

Photo: gavel, auction, law, hammer
Photo: gavel, auction, law, hammer تصویر: qimono / Pixabay
اہم نکات
  • جسٹس خالد اسحاق نے مستقل ورکر کا درجہ نہ دینے کے سرکاری احکامات کالعدم قرار دیے۔
  • عدالت نے 26 آئینی درخواستیں منظور کیں۔
  • اس فیصلے سے ملازمین خود بخود سرکاری ملازم نہیں بن جاتے۔
26منظور کی گئی آئینی درخواستیں
نو ماہ سے زائدمستقل کام کی مدت
89 دنبار بار تقرری کی مدت

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے ان احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے جن کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے اہل ڈیلی ویجز، ورک چارجڈ اور کنٹیجنٹ پیڈ ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ ڈیلی پاکستان اور نوائے وقت کے مطابق جسٹس خالد اسحاق نے 26 آئینی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان احکامات کو غیر قانونی قرار دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ جو اہل ملازمین مستقل نوعیت کا کام نو ماہ سے زائد عرصے تک کرتے رہے ہوں، وہ مستقل ورکرز کے قانونی حقوق کے حق دار ہیں۔ عدالت کے مطابق پنجاب حکومت کی 2021 کی پالیسی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز پر بھی لاگو ہوتی ہے اور اس کے لیے الگ نوٹیفکیشن ضروری نہیں۔

عدالت نے بار بار 89 دن کی تقرریوں کے طریقے پر کہا کہ اس سے کام کی مستقل نوعیت تبدیل نہیں ہوتی۔ ملازم کی قانونی حیثیت کا تعین کام کی نوعیت اور مدت سے ہوگا، تقرری کے نام سے نہیں۔

عدالت نے کہا کہ ایک جیسے حالات میں ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک آئین کے آرٹیکل 25 کے منافی امتیازی سلوک ہو سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ زبانی احکامات کے ذریعے ملازمین کو فارغ کرنا قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں۔ ملازمت ختم کرنے کے لیے وجوہات پر مبنی تحریری حکم ضروری ہے اور کسی منفی کارروائی سے پہلے ملازم کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا لازم ہے۔

عدالت کے مطابق ڈیٹا انٹری آپریٹرز، سینیٹری ورکرز اور دیگر اہل ملازمین جو انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ آرڈیننس 1968 کی شرائط پوری کرتے ہوں، مستقل ورکرز کے حقوق اور قانونی تحفظ کے حق دار ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ اس قانونی حیثیت کا مطلب سول سروس میں خود بخود مستقل ہونا یا سول سرونٹ کے طور پر ریگولرائز ہونا نہیں ہے۔

واجبات اور تنخواہوں کے تعین سے پہلے حکام کو ملازمین کو سننا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ واجبات طے کرتے وقت کام نہیں تو تنخواہ نہیں کے اصول کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ فیصلہ پنجاب کے ان ڈیلی ویجز ہیلتھ ملازمین پر اثر انداز ہوتا ہے جو مستقل ملازمت چاہتے ہیں، کیونکہ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ انہیں مستقل ورکرز کے قانونی حقوق کب حاصل ہوتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

لاہور ہائیکورٹپنجابہیلتھ ورکرز

اس خبر پر مزید