ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان6 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی دو بیٹیوں سے جیل میں ملاقات کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے پیر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی اپنی دو بیٹیوں سے ایک گھنٹہ ملاقات کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو 4 نومبر کو ذاتی طور پر طلب کر لیا۔

Photo: folsom prison, johnny cash, penitentiary, prisoners
Photo: folsom prison, johnny cash, penitentiary, prisoners تصویر: HaloJim / Pixabay
اہم نکات
  • ملاقات 3 نومبر کو صبح 10 بجے ہوگی اور ایک گھنٹے جاری رہے گی۔
  • ڈپٹی کمشنر لاہور 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں گے۔
  • علیمہ خان کی نظر بندی پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔
3 نومبر، صبح 10 بجےملاقات کی تاریخ اور وقت
ایک گھنٹہملاقات کا دورانیہ
4 نومبرڈپٹی کمشنر لاہور کی پیشی
30 دننظر بندی میں توسیع

لاہور ہائیکورٹ نے پیر کو حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کو منگل 3 نومبر کو صبح 10 بجے جیل میں ان کی دو بیٹیوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ ملاقات کا دورانیہ ایک گھنٹہ ہوگا۔

جسٹس عابر گل خان نے نورین نیازی کی بیٹیوں سکینہ اور شہرائز کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کیں۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق وکیل ملاقات کے لیے ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست دیں گے۔ 24 نیوز کے مطابق عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ملاقات کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو 4 نومبر کو ذاتی طور پر پیش ہو کر نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظر بندی میں توسیع کی وجوہات بتانے کا حکم دیا۔ عدالت نے پنجاب کے سیکرٹری داخلہ سے بھی توسیع کی وضاحت مانگی اور جیل حکام سے نورین نیازی کی طبی حالت پر رپورٹ طلب کی۔

پنجاب کے سیکرٹری داخلہ نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی۔ اس کے مطابق طبیعت خراب ہونے پر نورین نیازی کو ہسپتال لے جایا گیا، وہاں علاج ہوا اور ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے بھی عدالت میں یہی بتایا۔

علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر کو اور باقی دونوں کو 21 ستمبر کو 30، 30 دن کے لیے نظر بند کیا گیا۔ بعد میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی سفارش پر پنجاب حکومت نے تینوں کی نظر بندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔

بہنوں نے نظر بندی کے احکامات لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ گرفتاریاں اور توسیعیں غیر قانونی ہیں اور زیر حراست خواتین کو اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

عدالت نے علیمہ خان کی درخواست پر 4 نومبر تک جواب طلب کیا اور توسیع کے خلاف درخواستوں کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔ 24 نیوز کے مطابق نورین نیازی کی ایک اور بیٹی حجیرہ نیازی کی اپنی والدہ سے ملاقات 29 اکتوبر کو ہو چکی ہے۔ اس سے قبل عدالت نے جیل حکام سے بہنوں کو ادویات، کپڑوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے بارے میں رپورٹ مانگی تھی۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ کیس عمران خان کے اہل خانہ کی نظر بندی سے متعلق ہے جسے پاکستان کے قارئین قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ عدالتی احکامات سے بہنوں کی اہل خانہ سے ملاقات اور توسیع شدہ نظر بندی کے خلاف قانونی چارہ جوئی متاثر ہوتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

لاہور ہائیکورٹنورین نیازیعمران خان

اس خبر پر مزید