پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ: افغانستان سے دہشت گردی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے
پاکستان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں کہا کہ سرحد پار تشدد میں تیزی سے اضافے پر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ کونسلر محمد جواد اجمل نے طالبان سے خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

- پاکستان نے سرحد پار تشدد میں تیز اضافے کی نشاندہی کی اور کہا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔
- کونسلر محمد جواد اجمل نے طالبان سے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
- پاکستان نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ حقِ دفاع استعمال کرے گا۔
اے پی پی کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ میں خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان سے آنے والی، بیرونی پشت پناہی کی حامل دہشت گردی کے سامنے "خاموش نہیں بیٹھ سکتا"۔ پاکستان کے مطابق سرحد پار تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
کونسلر محمد جواد اجمل نے جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ کے ساتھ مکالمے کے دوران خطاب کیا۔
اجمل نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں، خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں ختم کریں اور افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی آزادیوں اور وقار سے محروم رکھنا طالبان کے بین الاقوامی وعدوں سے مسلسل پیچھے ہٹنے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بقول خواتین کے خلاف امتیازی اور ناروا طرز عمل اسلامی قوانین، روایات اور مسلم عقیدے کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جیو نیوز کے مطابق اجمل نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان کے مسائل کی جڑ ہے اور انہوں نے افغان علاقے سے سرگرم دہشت گرد گروہوں پر شدید تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان گٹھ جوڑ ہے اور بیرونی عناصر پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے والے پراکسی عناصر کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: "طالبان کا ان گروہوں کی کھلے عام مذمت نہ کرنا ان کی شراکت اور حمایت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتا ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان حکومت پاکستان کے خدشات دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور اسلام آباد بارہا کابل سے کہہ چکا ہے کہ عسکریت پسند گروہوں کو افغان سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال نہ کرنے دی جائے۔
اجمل نے کہا کہ 16 مارچ کو پاکستان نے ٹی ٹی پی کے زیر استعمال فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کی معاون سہولتوں، بشمول ڈرون اور اسلحے کے ذخائر، کو درست نشانہ بنایا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ مسلح افواج نے "کامیابی سے درست فضائی حملے کیے" (انگریزی سے ترجمہ)، جو آپریشن غضب للحق کے تحت کابل اور ننگرہار میں فوجی تنصیبات پر کیے گئے۔ اجمل نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کو خطرات کی صورت میں ضرورت پڑنے پر حقِ دفاع استعمال کرے گا۔
مہاجرین کے بارے میں اجمل نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، اکثر مناسب بین الاقوامی مدد کے بغیر۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ ذمہ داری بانٹے، کمزور افغان پناہ گزینوں کی مدد کرے اور مستحکم و پرامن افغانستان کی کوششوں کا ساتھ دے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان کے مطابق افغانستان سے سرحد پار تشدد میں اضافہ ملک کی سلامتی، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا، پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔ یہ بیان حقِ دفاع اور افغان پناہ گزینوں پر اسلام آباد کا مؤقف سامنے لاتا ہے۔



