پاکستان کا افغان سرزمین سے دہشت گردی پر انتباہ، اقوام متحدہ کے ماہر کا طالبان پر دباؤ
پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کہا کہ تین سال میں افغانستان سے ہونے والے حملوں میں 4700 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے الگ سے رکن ممالک پر زور دیا کہ طالبان سے تعلقات معمول پر نہ لائیں۔

- پاکستانی مندوب کے مطابق تین سال میں افغانستان سے حملوں میں 4700 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے۔
- وزارت اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے طالبان کا انکار معمول کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
- اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے طالبان سے تعلقات معمول پر نہ لانے پر زور دیا۔
پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی مسلسل موجودگی پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت انہیں اپنی سرزمین پر سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رہی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کہی گئی۔
پاکستان کے نمائندے محمد جواد اجمل نے کہا کہ گزشتہ تین برس میں افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4700 سے زائد پاکستانی جان سے گئے۔
جواد اجمل نے طالبان پر الزام لگایا کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں جو ان کے بقول بیرونی پشت پناہی کے ساتھ افغان سرزمین پر آزادانہ سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق طالبان کا ان گروہوں کی کھلے عام مذمت نہ کرنا ان کی سرگرمیوں کی حمایت اور مبینہ ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے جولائی میں اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا بھی ذکر کیا، جہاں اسلامی تعاون تنظیم نے اعلانِ اسلام آباد منظور کیا جس میں خواتین اور لڑکیوں پر طالبان کی پابندیوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی طالبان نے منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کرنے کا کوئی عزم نہیں دکھایا۔ ان کے مطابق بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے لیے، بڑھتی گئی ہیں۔
بینیٹ نے کہا کہ طالبان کے حالیہ احکامات سے خواتین کے حقوق مزید کمزور ہوئے اور پرتشدد شادیوں سے نکلنے کے ان کے امکانات محدود ہو گئے۔ انہوں نے طالبان حکومت کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کو قبول کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی اور رکن ممالک پر زور دیا کہ جب تک طالبان پابندیوں والی پالیسیاں واپس نہ لیں، ان سے تعلقات معمول پر نہ لائے جائیں۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ترجمان کی تازہ ٹویٹ کو گمراہ کن قرار دیا۔ وزارت کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے طالبان حکومت کا مسلسل انکار معمول کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
وزارت نے کہا کہ طالبان قیادت اسلام آباد کی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتی ہے جبکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو دانستہ نظر انداز کرتی ہے۔ اس کے مطابق پاکستان سرحد پار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کرے گا اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ کابل کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان خطرات کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر ہے، اور عوام کے تحفظ کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
یہ کیوں اہم ہے
افغانستان سے سرحد پار عسکری حملے پاکستان کے اندر سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، اور یہ بیانات کابل اور اقوام متحدہ میں اسلام آباد کا مؤقف ظاہر کرتے ہیں۔



