ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

اکتوبر میں پاکستان میں دہشت گرد حملے 37 فیصد کم ہوئے: پکس

تھنک ٹینک پکس کے مطابق اکتوبر میں ملک میں 143 دہشت گرد حملے ہوئے جبکہ ستمبر میں 226 تھے۔ حملوں میں ہلاکتیں 57 فیصد کم ہو کر 111 رہ گئیں۔

U.S. and Albanian special operations forces approach an Afghan Border Police checkpoint overlooking a mountain pass near the Afghanistan-Pakistan border in the…
U.S. and Albanian special operations forces approach an Afghan Border Police checkpoint overlooking a mountain pass near the Afghanistan-Pakistan border in the… تصویر: Staff Sgt. Shane Hamann / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • حملے ستمبر کے 226 سے کم ہو کر اکتوبر میں 143 رہ گئے، یعنی 37 فیصد کمی۔
  • حملوں میں ہلاکتیں 260 سے 111 اور زخمی 242 سے 69 ہو گئے۔
  • دہشت گردی سے متعلق واقعات میں اغوا 22 فیصد بڑھ کر 88 ہو گئے۔
  • پکس نے خبردار کیا کہ ماہانہ بہتری کا مطلب لازماً پائیدار کمی نہیں۔
143 (ستمبر میں 226)اکتوبر میں حملے
111 (ستمبر میں 260)حملوں میں ہلاکتیں
156کارروائیوں میں مارے گئے عسکریت پسند
88اکتوبر میں اغوا

اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پکس) کے اتوار کو جاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں ملک میں دہشت گرد حملے ستمبر کے مقابلے میں 37 فیصد کم ہوئے۔ تھنک ٹینک نے اکتوبر میں 143 حملے ریکارڈ کیے جبکہ ستمبر میں 226 تھے۔ اس سے پہلے مسلسل دو ماہ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا تھا۔

حملوں میں ہلاکتیں 57 فیصد کم ہو کر ستمبر کی 260 سے اکتوبر میں 111 رہ گئیں۔ زخمیوں کی تعداد 71 فیصد کم ہو کر 242 سے 69 ہو گئی۔ پکس کے مطابق اکتوبر میں حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو ملا کر 53 سکیورٹی اہلکار، 45 شہری اور پانچ امن کمیٹی ارکان جان سے گئے، جبکہ 169 عسکریت پسند مارے گئے۔

اکتوبر میں صرف ایک خودکش حملہ ہوا، ستمبر میں تین ہوئے تھے۔ اکتوبر کا حملہ گاڑی کے ذریعے دھماکا خیز مواد سے کیا گیا اور اس میں کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا۔ ستمبر کے خودکش حملوں میں 45 افراد ہلاک اور 138 زخمی ہوئے تھے۔

بلوچستان میں حملے 46 فیصد کم ہو کر 132 سے 71 رہ گئے۔ وہاں حملوں سے ہلاکتیں 136 سے 44 اور زخمی 63 سے 37 ہو گئے۔ صوبے میں سکیورٹی کارروائیوں میں 79 عسکریت پسند مارے گئے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ اکتوبر میں بلوچستان میں ایک بم حملے میں فوج کا ایک میجر شہید ہوا۔

خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقوں میں، سابق قبائلی اضلاع کے علاوہ، حملے 31 فیصد کم ہو کر 58 سے 40 رہ گئے۔ ہلاکتیں 90 سے 38 اور زخمی 165 سے 19 ہو گئے۔ وہاں کارروائیوں میں 42 عسکریت پسند مارے گئے اور دو سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ سابق قبائلی اضلاع میں حملے 12 فیصد کم ہو کر 34 سے 30 ہوئے۔ ہلاکتیں 33 سے 25 ہو گئیں جبکہ زخمی 11 سے بڑھ کر 13 ہو گئے، اور سکیورٹی فورسز نے 35 عسکریت پسند ہلاک کیے۔

ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اکتوبر کے دوران 156 عسکریت پسند مارے گئے اور سات مشتبہ افراد گرفتار ہوئے۔ ان کارروائیوں میں دو سکیورٹی اہلکار اور تین شہری جاں بحق اور دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

پنجاب میں اکتوبر میں دو حملے ہوئے جبکہ ستمبر میں کوئی نہیں ہوا تھا؛ ان میں چار افراد ہلاک ہوئے اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔ سندھ میں کوئی حملہ نہیں ہوا، تاہم سکیورٹی اداروں نے سات مشتبہ عسکریت پسند گرفتار کیے۔ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی کوئی حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔

پکس کے مطابق اکتوبر میں دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 88 افراد اغوا ہوئے، جو ستمبر کے 72 سے 22 فیصد زیادہ اور گزشتہ 12 ماہ کی بلند ترین ماہانہ تعداد ہے۔ ان میں سے 70 واقعات بلوچستان میں ہوئے، یعنی قومی تعداد کا تقریباً 80 فیصد۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ماہانہ بہتری لازمی طور پر عسکریت پسند تشدد میں پائیدار کمی کی عکاسی نہیں کرتی۔

یہ کیوں اہم ہے

عسکریت پسند تشدد میں تبدیلی ملک بھر کے لوگوں کی سلامتی اور روزمرہ زندگی پر اثر ڈالتی ہے، اور اعداد و شمار میں زیادہ تر حملے اور اغوا اب بھی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہوئے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پکسدہشت گردیبلوچستان

اس خبر پر مزید