موبائل فون سازی میں 50 فیصد مقامی ویلیو ایڈیشن کا ہدف
پاکستان نئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی تیار کر رہا ہے جس میں وقت کے ساتھ 50 فیصد تک مقامی ویلیو ایڈیشن کا ہدف ہے۔ اس وقت یہ شرح تقریباً 10 سے 20 فیصد ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- وزارتِ صنعت و پیداوار نئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی تیار کر رہی ہے۔
- مقامی ویلیو ایڈیشن اس وقت 10 سے 20 فیصد ہے، ہدف وقت کے ساتھ 50 فیصد تک ہے۔
- جنوری تا ستمبر 2026 میں ملک میں 2 کروڑ 8 لاکھ ہینڈ سیٹس تیار ہوئے۔
بزنس ریکارڈر اور ٹیک جوائس کے مطابق ایک سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نئی پالیسی کے تحت موبائل ڈیوائس کی تیاری میں 50 فیصد تک مقامی ویلیو ایڈیشن کا ہدف رکھتا ہے۔ مقصد صنعت کو درآمدات پر انحصار کرنے والی اسمبلی سے مقامی پرزہ سازی کی طرف لے جانا ہے۔
وزارتِ صنعت و پیداوار نئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ یہ پالیسی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی 2020-2023 کی بنیاد پر بنے گی، جس کے تحت اسمبلی سہولتوں میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔ نئی پالیسی کا زور مقامی پرزوں کی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور معاون صنعتی ماحول کی تشکیل پر ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت مقامی ویلیو ایڈیشن تقریباً 10 سے 20 فیصد ہے، جبکہ وزارت کا ہدف وقت کے ساتھ 50 فیصد تک پہنچنا ہے۔
مقامی اسمبلی کا حجم اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 2 کروڑ 8 لاکھ ہینڈ سیٹس تیار ہوئے، جبکہ ہینڈ سیٹس کی تجارتی درآمد 28 لاکھ 50 ہزار یونٹ رہی۔ مقامی طور پر تیار ہونے والے فونز میں تقریباً 80 لاکھ اسمارٹ فون اور 1 کروڑ 20 لاکھ 2G فون شامل تھے۔ پی ٹی اے کے اعداد و شمار کے مطابق مقامی نیٹ ورکس پر فعال موبائل آلات میں اسمارٹ فونز کا حصہ 71 فیصد ہے۔
درآمدی بل میں کمی آئی ہے۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں موبائل فون کا درآمدی بل ڈالر میں 16.6 فیصد کم ہو کر 417.24 ملین ڈالر رہا، جو ایک سال پہلے تقریباً 500.01 ملین ڈالر تھا۔ ستمبر 2026 میں درآمدات اگست کے 133.66 ملین ڈالر کے مقابلے میں 7.1 فیصد بڑھ کر 143.14 ملین ڈالر ہوئیں، تاہم ستمبر 2025 کے مقابلے میں 28.2 فیصد کم رہیں۔
2026 کے ابتدائی نو ماہ میں وی جی او ٹیل سب سے بڑا مقامی ہینڈ سیٹ ساز رہا اور اس نے انفینکس اور آئٹل کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انفینکس نے 2024 میں 39 لاکھ 80 ہزار اور 2025 میں 36 لاکھ 50 ہزار یونٹ مقامی طور پر بنائے۔ رپورٹس کے مطابق پیداوار کسی ایک برانڈ تک محدود رہنے کے بجائے مختلف کمپنیوں میں پھیل رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پالیسی کی کامیابی کا انحصار مقامی پرزوں کی مسابقتی سپلائی چین بنانے، قیمتیں مسابقتی رکھنے اور باقی درآمدی پرزوں تک رسائی برقرار رکھنے پر ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ پالیسی طے کرے گی کہ پاکستان میں فروخت ہونے والے موبائل فون کیسے بنیں، ان کی قیمت اور سپلائی کیا ہو، اور اس کا اثر مقامی اسمبلرز اور درآمدی بل پر پڑتا ہے۔



