ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان9 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستان اور سنگاپور کا تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشنن کے درمیان جمعے کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے۔ دونوں ممالک نے تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور آفات سے نمٹنے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

Photo: handshake, agreement, trade, business
Photo: handshake, agreement, trade, business تصویر: Ralphs_Fotos / Pixabay
اہم نکات
  • اسحاق ڈار کے مطابق سنگاپور کے وزیر خارجہ کا دو دہائیوں سے زائد عرصے میں پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔
  • سنگاپور میں پاکستان ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفس دوبارہ کھولا جائے گا۔
  • این ڈی ایم اے اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس نے آفات سے نمٹنے پر مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا۔
60سفارتی تعلقات کے سال
2027سنگاپور کی آسیان چیئرمین شپ

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق پاکستان اور سنگاپور نے جمعے کو تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی، ثقافت، عوامی رابطوں اور آفات سے نمٹنے میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے محدود ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سنگاپور کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں پہلا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1965 میں سنگاپور کی آزادی تسلیم کی۔ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کا موقع بھی منا رہے ہیں۔

دونوں فریقوں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کا خیرمقدم کیا اور چیمبرز آف کامرس اور تجارتی وفود کے ذریعے کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق کیا۔ بالاکرشنن نے کہا کہ تجارتی حجم نمایاں طور پر زیادہ ہونا چاہیے، اور کاربن کریڈٹس اور کاربن مارکیٹس کو مشترکہ کام کے لیے امید افزا شعبہ قرار دیا۔ سنگاپور میں پاکستان ہائی کمیشن کے تحت ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفس دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے باقاعدہ دوطرفہ سیاسی مشاورت اور اعلیٰ سطحی تبادلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ تعلیم، تحقیق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، افرادی قوت کی تربیت، زراعت اور موسمیاتی شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی، جبکہ جامعات اور تحقیقی اداروں کے روابط پر بھی گفتگو ہوئی۔ بالاکرشنن نے این ٹی یو اور این یو ایس کے نسٹ کے ساتھ گہرے ادارہ جاتی تعاون کا خیرمقدم کیا۔ ثقافتی، تعلیمی اور نوجوانوں کے تبادلوں اور براہ راست پروازوں کی ممکنہ بحالی پر بھی بات ہوئی۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس نے آفات سے نمٹنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا۔ بالاکرشنن نے کہا کہ سنگاپور بڑے پیمانے کی قدرتی آفات اور شدید موسمی واقعات سے نمٹنے کے پاکستانی تجربے سے سیکھے گا۔ قبل از وقت انتباہی نظام، بہترین طریقوں کے تبادلے، تلاش و بچاؤ کی صلاحیت اور مشترکہ تربیتی مشقوں پر زور دیا گیا۔

اسحاق ڈار نے سنگاپور کو 2027 میں آسیان کی چیئرمین شپ پر کامیابی کی تمنا کی۔ انہوں نے غرب اردن اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت بدلنے کی کوششوں اور غیر قانونی بستیوں کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کی اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کی حمایت دہرائی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کا مطالبہ بھی کیا۔ بالاکرشنن نے خطے کے موجودہ بحرانوں، خصوصاً خلیج میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔

اے پی پی کی ایک اور خبر کے مطابق وزیراعظم نے سنگاپور کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے ڈیجیٹل معیشت، فن ٹیک، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، چھوٹے و درمیانے کاروبار اور خدمات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کی۔

یہ کیوں اہم ہے

طے شدہ شعبوں میں تعاون کے مطابق سنگاپور کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور جامعات کے روابط بڑھنے سے پاکستانی کاروباروں اور طلبہ کے لیے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سنگاپورتجارتخارجہ پالیسی

اس خبر پر مزید