ابھی ابھیغیر ملکی معدنی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات کا منصوبہسپریم کورٹ: بیوی پر تشدد سرکاری ملازم کی سروس سے متعلق بدعنوانی ہےپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن میں کمی
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

افغان سرزمین سے دہشتگردی کابل سے بہتر تعلقات میں بڑی رکاوٹ: پاکستان

وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی تعلقات میں بہتری کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وزارت نے افغان طالبان قیادت سے دہشتگرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

Marine Corps Gen. John R. Allen, commander of NATO and International Security Assistance Force troops in Afghanistan, visited military and civilian personnel a…
Marine Corps Gen. John R. Allen, commander of NATO and International Security Assistance Force troops in Afghanistan, visited military and civilian personnel a… تصویر: Master Sgt. Michael O'Connor (US armed forces) / Wikimedia Commons, CC BY 2.0
اہم نکات
  • وزارت اطلاعات کے مطابق افغان سرزمین سے دہشتگردی تعلقات کی بہتری میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
  • وزارت نے افغان طالبان قیادت سے صرف بیانات اور یقین دہانیوں کے بجائے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔
  • پاکستان نے بین الاقوامی قانون کے مطابق قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق دہرایا۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشتگردی اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں بہتری کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وزارت نے افغان طالبان قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

وزارت کا یہ ردعمل افغان طالبان کے ایک ترجمان کی سوشل میڈیا پوسٹ پر سامنے آیا، جو ہفتے کو جاری بیان میں شامل تھی۔ وزارت کے مطابق اس پوسٹ میں کشیدگی کی اصل وجوہات کو نظر انداز کیا گیا اور دوطرفہ تعلقات بگڑنے کے پیچھے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کیا گیا۔

وزارت نے کہا کہ افغان علاقے سے کیے جانے والے عسکریت پسند حملے تعلقات معمول پر لانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس کے مطابق افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے اور مسلح گروہوں کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے۔

وزارت نے کشیدگی کا ذمہ دار طالبان قیادت کی مؤثر کارروائی میں مسلسل ناکامی کو ٹھہرایا۔ بیان میں الزام تراشی اور کھوکھلی یقین دہانیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف عملی اقدامات کے بغیر زبانی وعدوں سے بحران حل نہیں ہوگا۔

وزارت کے مطابق دہشتگردی پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے اور شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اس نے شہریوں کا تحفظ ریاست کی پہلی ترجیح اور اولین ذمہ داری قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔ وزارت کے مطابق پاکستان کی سلامتی کو طالبان حکومت کی بے عملی، تاخیری حربوں یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

وزارت نے افغان طالبان قیادت سے کہا کہ وہ ذمہ داری قبول کرے اور سرحد پار حملے روکنے کے عزم کا عملی مظاہرہ کرے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ صرف بیانات کے بجائے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے۔

یہ کیوں اہم ہے

افغانستان سے سرحد پار عسکریت پسندی پاکستان کی سلامتی اور کابل کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ بیان بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ سے متعلق اسلام آباد کا سرکاری مؤقف سامنے رکھتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پاک افغان تعلقاتدہشتگردیطالبان

اس خبر پر مزید