حکومت نے تجارتی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے پانچ سالہ عمر کی حد ختم کر دی
وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر پانچ سال کی عمر کی حد یکم جولائی 2026 سے ختم کر دی ہے، وزارت تجارت کے مطابق۔ یہ فیصلہ 30 اکتوبر 2026 کے دفتری میمورنڈم کے ذریعے ایف بی آر کو بتایا گیا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر پانچ سالہ حد یکم جولائی 2026 سے ختم۔
- وزارت تجارت نے 30 اکتوبر 2026 کے دفتری میمورنڈم سے ایف بی آر کو آگاہ کیا۔
- درآمدات کو دیگر پالیسی تقاضے اور مقررہ معیار پورے کرنا ہوں گے۔
وزارت تجارت کے مطابق وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر پانچ سال کی عمر کی حد یکم جولائی 2026 سے ختم کر دی ہے۔
وزارت نے یہ فیصلہ 30 اکتوبر 2026 کے دفتری میمورنڈم کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بتایا۔ ایف بی آر نے 23 اکتوبر کو رہنمائی مانگی تھی کہ آیا 30 جون 2026 کے بعد بھی استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر عمر کی پابندی لاگو رہے گی یا نہیں۔
میمورنڈم میں کہا گیا: "وفاقی کابینہ کے منظور شدہ فیصلے کے پیش نظر استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی پانچ سالہ عمر کی حد یکم جولائی 2026 سے ختم تصور ہوگی" (انگریزی سے ترجمہ)۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ نے منظور کیا تھا۔
30 جون 2026 تک پانچ سالہ حد پی سی ٹی ہیڈنگز 8702، 8703، 8704 اور 8711 کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر لاگو تھی۔ ایسی درآمدات کو وزارت صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے مقرر کردہ ماحولیاتی اور حفاظتی معیار پر بھی پورا اترنا ہوتا تھا۔
حد ختم کرنے کا اطلاق دیگر متعلقہ امپورٹ پالیسی تقاضوں اور مقررہ معیارات کی پابندی سے مشروط ہے، یعنی درآمد کنندگان کو انہیں پورا کرنا ہوگا۔
حکومت نے گزشتہ سال استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد مرحلہ وار منصوبے کے تحت کھولی تھی، جس میں 40 فیصد اضافی ڈیوٹی شامل تھی۔ یہ اضافی ڈیوٹی 2029-30 تک ہر سال 10 فیصد پوائنٹ کم ہونا طے ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ستمبر 2026 میں 2,276 استعمال شدہ گاڑیاں درآمد ہوئیں، جبکہ مئی میں یہ تعداد 48 تھی۔ مقامی کار ساز کمپنیاں بڑھتی درآمدات کے مقامی طور پر تیار گاڑیوں پر اثر سے ناخوش ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
اس تبدیلی سے پاکستان میں درآمد کنندگان اور خریداروں کے لیے تجارتی طور پر منگوائی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں کا دائرہ بدلتا ہے، جبکہ مقامی کار ساز کمپنیاں بڑھتی درآمدات کے اثر سے ناخوش ہیں۔



