ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان9 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستان کا افغان طالبان کے شہری ہلاکتوں کے الزامات کا مسترد

دفتر خارجہ نے انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق افغان طالبان رجیم کے الزامات مسترد کر دیے۔ ترجمان کے مطابق کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے لاجسٹک اڈوں کے خلاف تھیں۔

View from Michni Post to Torkham Border, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan
View from Michni Post to Torkham Border, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan تصویر: Maximusopti / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • دفتر خارجہ نے شہری ہلاکتوں کے الزامات کو بے بنیاد اور بلا ثبوت قرار دیا
  • ترجمان کے مطابق 2026 میں افغان سرزمین سے حملوں میں 3500 سے زائد افراد نشانہ بنے
  • پاکستان کے مطابق اس کا ردعمل اپنے دفاع میں اور متناسب تھا
3500 سے زائددفتر خارجہ کے مطابق 2026 میں حملوں سے نقصان

پاکستان نے پیر کو انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو دوٹوک الفاظ میں بے بنیاد اور بلا ثبوت قرار دے کر مسترد کر دیا۔ یہ موقف 26 اکتوبر کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان میں سامنے آیا۔

ترجمان کے مطابق غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیے نہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا سکتے ہیں اور نہ افغان طالبان رجیم کو اس ذمہ داری سے بری کر سکتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کے لیے استعمال نہ ہو۔

دفتر خارجہ کے مطابق ان حملوں میں صرف 2026 میں 3500 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہزاروں پاکستانی شہری ان دہشت گرد حملوں میں شہید ہوئے جن کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور عمل درآمد افغان سرزمین سے، طالبان رجیم کی نگرانی، سرپرستی اور فعال سہولت کاری میں ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے متعلقہ نظاموں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، کی رپورٹس کے مطابق طالبان رجیم بڑی تعداد میں دہشت گرد تنظیموں کو بلا خوف پناہ دے رہی ہے۔ ان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے فتنہ الخوارج کہا گیا، اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، جسے فتنہ الہندوستان کہا گیا، اور ان کے ساتھی گروہ شامل ہیں۔ اس پر عالمی برادری کو تشویش ہے۔

ترجمان نے کہا کوئی ذمہ دار ریاست اس وقت خاموش نہیں رہ سکتی جب اس کے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو بار بار نشانہ بنایا جائے۔ پاکستان کی جوابی کارروائیاں حق دفاع کے تحت، ضرورت کے اصول پر اور آخری چارہ کار کے طور پر کی گئیں، اور ان کا ہدف صرف دہشت گرد اور افغانستان میں ان کے لاجسٹک اڈے تھے۔

بیان کے مطابق ردعمل خطرے کے مطابق متناسب تھا اور امتیاز اور احتیاط کے اصولوں کی سختی سے پابندی کی گئی۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کا دائرہ پاکستان کو درپیش حملوں کی شدت اور تعداد کے پیش نظر تحمل کا مظہر تھا، اور پاکستان اس کے برعکس تاثر کو مسترد کرتا ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ طالبان رجیم کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر وعدوں پر عمل نہ کرنے پر جواب دہ ٹھہرائے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

بیان اس سکیورٹی خطرے پر پاکستان کا سرکاری موقف بتاتا ہے جسے وہ افغان سرزمین سے جوڑتا ہے، اور جس کا تعلق ملک بشمول سرحدی علاقوں کے تحفظ سے ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پاک افغان تعلقاتدہشت گردیدفتر خارجہ

اس خبر پر مزید