ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار4 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستان کا 49 کروڑ ڈالر کا آئی ٹی ایف سی قرض 8 فیصد لاگت پر مسترد

پاکستان نے اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے ادارے آئی ٹی ایف سی کا 49 کروڑ ڈالر کا ایک سالہ تجارتی قرض مسترد کر دیا ہے۔ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کو تقریباً 8 فیصد لاگت 6 فیصد کی توقع سے زیادہ لگی۔

Photo: leather, wallet, purse, portfolio
Photo: leather, wallet, purse, portfolio تصویر: haseeb2222 / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • پاکستان نے آئی ٹی ایف سی کا 49 کروڑ ڈالر کا ایک سالہ قرض مسترد کیا
  • قرض کی مجموعی لاگت تقریباً 8 فیصد تھی، توقع 6 فیصد کی تھی
  • وزارت خزانہ نے اقتصادی امور ڈویژن سے سستی سہولت تلاش کرنے کو کہا ہے
49 کروڑ ڈالرمسترد کیا گیا قرض
تقریباً 8 فیصدپیش کردہ مجموعی لاگت
تقریباً 6 فیصدمتوقع لاگت
28 ہزار 647 ارب روپے (جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد)مالی سال 2026-27 کی مجموعی مالیاتی ضروریات

ایکسپریس ٹریبیون اور ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان نے اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کی جانب سے 49 کروڑ ڈالر کے تجارتی قرض کی پیشکش زیادہ لاگت کے باعث مسترد کر دی ہے۔ یہ سہولت ایک سال کی مدت کے لیے پیش کی گئی تھی۔

سرکاری حکام کے مطابق وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس نے گزشتہ ہفتے یہ فیصلہ کیا۔ دفتر کو تقریباً 6 فیصد لاگت کی توقع تھی، جبکہ آئی ٹی ایف سی کی مجموعی لاگت تقریباً 8 فیصد تھی۔ ذرائع کے مطابق یہ دسمبر 2027 میں میچور ہونے والے بانڈ کی 6.1 فیصد مارکیٹ شرح سے بھی زیادہ تھی۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے تبصرے کی درخواست پر جواب نہیں دیا۔ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس میں جنوری سے مستقل ڈائریکٹر جنرل موجود نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قرض مسترد کرنے کے بعد وزارت خزانہ نے اقتصادی امور ڈویژن سے کہا ہے کہ آئی ٹی ایف سی یا کسی اور ذریعے سے مسابقتی شرح پر نئی قرض سہولت تلاش کی جائے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک کی مالیاتی ضروریات بلند ہیں۔ وزارت خزانہ کے مالی سال 2026-27 کے قرضہ منصوبے کے مطابق مجموعی مالیاتی ضروریات 28 ہزار 647 ارب روپے ہیں، جو جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہیں۔ اس میں 7 ہزار ارب روپے کا وفاقی مالی خسارہ اور 21 ہزار ارب روپے سے زائد کے ملکی و بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں شامل ہیں۔ خالص بیرونی فنانسنگ 813 ارب روپے، یعنی 2.8 ارب ڈالر، لگائی گئی ہے، تاہم قرضوں کی واپسی کے بعد کی یہ رقم ہے اس لیے اصل قرض اس سے زیادہ ہوگا۔

آئی ایم ایف نے اس ہفتے جاری رپورٹ میں جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کا 1 فیصد، یعنی تقریباً 4.5 ارب ڈالر رہنے کا اندازہ دیا ہے۔ یہ پاکستانی حکام کے بتائے گئے 2.5 سے 3 ارب ڈالر سے کم از کم 1.5 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ مالی سال میں مجموعی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے تقریباً 22 فیصد تھیں، جسے وزارت خزانہ کے حکام نے زیادہ قرار دیا۔

یہ انکار اگست میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے ذریعے بحرین اور دبئی سے لیے گئے 30 کروڑ ڈالر کے قرض کے چند ماہ بعد سامنے آیا۔ اس قرض پر بینک کے منافع پر انکم ٹیکس معاف کیا گیا تھا۔ ایک اہلکار کے مطابق غیرملکی تجارتی قرض دہندگان شرط رکھتے ہیں کہ پاکستانی ٹیکس ان پر نہ پڑے، اس لیے حکومت یا تو یہ بوجھ اٹھاتی ہے یا چھوٹ دیتی ہے۔ قانون وفاقی کابینہ کو یہ ٹیکس معاف کرنے کا اختیار دیتا ہے، جو آخرکار بجٹ سے ادا ہوتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ستمبر میں حکومت نے یوروبانڈز سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے: ساڑھے پانچ سالہ بانڈ سے 1.75 ارب ڈالر 7.5 فیصد کوپن پر، اور 10 سالہ بانڈ سے 1.25 ارب ڈالر 7.9 فیصد فیس ویلیو شرح پر۔ وزارت خزانہ کو بیرونی فنانسنگ کے لیے کثیرفریقی قرض دہندگان سے 1.6 ارب ڈالر کے خالص قرضوں کی توقع ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

سرکاری قرضوں کی لاگت اور مالیاتی ضروریات کا اثر بجٹ پر پڑتا ہے، جس کی ادائیگی آخرکار عوامی وسائل سے ہوتی ہے، بشمول غیرملکی قرضوں پر ٹیکس چھوٹ۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وزارت خزانہ قرض کی لاگت کو کیسے دیکھ رہی ہے جب مجموعی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے 20 فیصد کے قریب ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

قرضوزارت خزانہآئی ایم ایف

اس خبر پر مزید