ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کا درجہ 2028 کے آخر تک برقرار رہے گا

پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ 31 دسمبر 2028 تک برقرار ہے، تاہم اسے یورپی یونین کے نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت تجدید کی درخواست دینا ہوگی۔ جرمن سفیر اینا لیپل نے کہا کہ یورپی یونین نے ان شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن پر پاکستان کو توجہ دینا ہوگی۔

Photo: container ship, container transport, seagoing vessel, boat
Photo: container ship, container transport, seagoing vessel, boat تصویر: dendoktoor / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • وزیر مملکت برائے خزانہ نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا کہ جی ایس پی پلس درجہ 31 دسمبر 2028 تک برقرار ہے۔
  • پاکستان کو 2026 میں منظور ہونے والے یورپی یونین کے نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت مزید رعایتوں کے لیے درخواست دینا ہوگی۔
  • یورپی یونین کے جائزے کے مطابق پاکستان نے 2024 میں 7.5 ارب یورو کی اہل برآمدات بھیجیں۔
31 دسمبر 2028 تکجی ایس پی پلس کی موجودہ مدت
7.5 ارب یورو2024 میں اہل برآمدات
732 ملین یوروتخمینی ٹیرف چھوٹ

پروپاکستانی کے مطابق وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے تحت پاکستان کا موجودہ درجہ 31 دسمبر 2028 تک برقرار رہے گا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے پیر کو اسلام آباد میں میٹ دی پریس پروگرام میں کہا کہ 2028 میں نیا فریم ورک شروع ہونے سے پہلے یہ درجہ تجدید کے لیے زیر غور ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین، جو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، نے گزشتہ سردیوں کے نگرانی کے دورے کے بعد جولائی میں رپورٹ جاری کی جس میں ان اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن پر پاکستان کو عمل کرنا ہوگا۔ مستفید ملکوں کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔

کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے مستقبل میں ترجیحی تجارتی رسائی کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے پروگرام کی صورتحال کو غیر یقینی قرار دیا اور رسائی کے تحفظ کے لیے بہتری لانے پر زور دیا۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف بہتری یقینی بنانے اور اس پروگرام کے تحت پاکستان کی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے باقاعدگی سے اجلاس کر رہے ہیں۔

پاکستان 2014 سے جی ایس پی اسکیم سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جس کے تحت اہل برآمدات یورپی یونین کی منڈی میں کم یا صفر ٹیرف پر داخل ہوتی ہیں۔ اسکیم کے تحت اہل برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

2026 میں منظور ہونے والے یورپی یونین کے نظرثانی شدہ جی ایس پی فریم ورک کے تحت پاکستان کو 2028 کے بعد بھی جی ایس پی پلس کے فوائد کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ شرائط میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور قانون کی حکمرانی سے متعلق وعدے شامل ہیں۔

یورپی یونین کے 2026 کے جائزے کے مطابق پاکستان نے 2024 میں جی ایس پی پلس کے لیے اہل 7.5 ارب یورو کا سامان یورپی یونین کو برآمد کیا اور اسے تقریباً 732 ملین یورو کی ٹیرف چھوٹ ملی۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے حال ہی میں وزیر اعظم پر زور دیا ہے کہ یورپی یونین کی شرائط پوری کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔

یہ کیوں اہم ہے

یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، اس لیے جی ایس پی پلس کی تجدید برآمد کنندگان، خصوصاً ٹیکسٹائل کے شعبے، اور اس سے وابستہ روزگار پر اثر انداز ہوتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

جی ایس پی پلسیورپی یونینبرآمدات

اس خبر پر مزید