زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ 21.5 ارب ڈالر، جولائی تا ستمبر سہ ماہی کے اعداد
حکومتی اسکور کارڈ کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 52 فیصد بڑھ کر ریکارڈ 21.5 ارب ڈالر ہو گئے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے سے مزید 1.2 ارب ڈالر مل سکتے ہیں، جس کی منظوری ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- اسٹیٹ بینک کے ذخائر سالانہ 52 فیصد اضافے سے 21.5 ارب ڈالر رہے۔
- خالص غیر ملکی سرمایہ کاری 3.65 ارب ڈالر رہی، جبکہ پچھلے سال 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج تھا۔
- آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری سے 1.2 ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔
- کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر رہا۔
وزارت خزانہ کے جولائی تا ستمبر 2026 کے میکرو، ریفارم اینڈ انویسٹمنٹ اسکور کارڈ کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی لیکوئڈ ذخائر 26.8 ارب ڈالر رہے اور درآمدی کور بڑھ کر تین ماہ سے زائد ہو گیا، جو ایک سال پہلے 2.2 ماہ تھا۔ روپے کی قدر سالانہ بنیاد پر 1.5 فیصد بڑھی۔
خالص غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد 3.65 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں 33 ملین ڈالر کا خالص اخراج ہوا تھا۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 20 فیصد اضافے سے 720 ملین ڈالر رہی اور غیر ملکی نجی سرمایہ کاری 44 فیصد بڑھ کر 691 ملین ڈالر ہو گئی۔ سرکاری شعبے میں 2.96 ارب ڈالر آئے، جبکہ پچھلے سال 512 ملین ڈالر کا اخراج تھا۔
اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 11 فیصد بڑھ کر 11.2 ارب ڈالر رہیں۔ اشیا کی برآمدات 8 فیصد اضافے سے 8.5 ارب ڈالر رہیں اور ستمبر میں 20 ماہ کی بلند ترین سطح رہی، جبکہ خدمات کی برآمدات 23 فیصد بڑھ کر 2.7 ارب ڈالر ہو گئیں۔ آئی ٹی برآمدات 18 فیصد اضافے سے 1.25 ارب ڈالر اور فری لانسرز کی آمدن 46 فیصد بڑھ کر 550 ملین ڈالر رہی۔ ترسیلات زر 14 فیصد بڑھ کر 10.9 ارب ڈالر رہیں، جو بنیادی طور پر سعودی عرب، یو اے ای، برطانیہ اور یورپ سے آئیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ میں 874 ملین ڈالر کا خسارہ رہا، جو گزشتہ سال 755 ملین ڈالر تھا۔ اسکور کارڈ کے مطابق یہ حکومتی اندازے کے مطابق ہے۔ بزنس ریکارڈر نے نشاندہی کی کہ اسکور کارڈ میں درآمدات، مہنگائی، فی کس آمدن اور غربت جیسے اشاریے شامل نہیں۔
ریٹنگز کے حوالے سے موڈیز نے پاکستان کو Caa1 سے B3 پر اپ گریڈ کیا اور آؤٹ لک مستحکم رکھا۔ اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے ریٹنگ B مائنس سے بڑھا کر B کر دی، آؤٹ لک مستحکم ہے۔ فچ نے B مائنس ریٹنگ اور مستحکم آؤٹ لک برقرار رکھا۔ اسکور کارڈ کے مطابق تینوں بڑی ایجنسیاں اب پاکستان کو B کیٹیگری میں رکھتی ہیں۔
حکومت کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا ہے۔ اس سے مزید 1.2 ارب ڈالر مل سکتے ہیں، تاہم رقم کی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے۔ اسکور کارڈ میں پروگرام پر عمل درآمد کو مجموعی طور پر درست سمت میں قرار دیا گیا۔
ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں 3.1 ٹریلین روپے جمع کیے، جو 7 فیصد زیادہ اور ہدف سے بلند ہیں، جبکہ انکم ٹیکس فائلرز 45 فیصد بڑھ کر 57 لاکھ 70 ہزار ہو گئے۔ پالیسی ریٹ ستمبر تک 11.5 فیصد رہا۔ نجی شعبے کا قرضہ 16.6 فیصد اضافے سے 11.28 ٹریلین روپے رہا۔ مجموعی حکومتی قرض 714 ارب روپے کم ہو کر 86 ٹریلین روپے رہ گیا اور بیرونی قرض 98.2 ارب ڈالر پر مستحکم رہا۔
یہ کیوں اہم ہے
ذخائر، روپے کی قدر اور ممکنہ آئی ایم ایف فنانسنگ کا تعلق حکومت کی درآمدات کی ادائیگی کی صلاحیت اور ملک میں قیمتوں سے ہے۔ اسکور کارڈ کے مطابق برآمدات، ترسیلات اور ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہوا۔



