پہلی سہ ماہی میں برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ: احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں "encouraging growth" ہوئی۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق ترسیلات 10.9 ارب ڈالر رہیں، جو 14 فیصد زیادہ ہیں، تاہم درآمدات اور مہنگائی بھی بڑھی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر 10.9 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 14 فیصد زیادہ ہیں۔
- برآمدات 7.7 فیصد بڑھ کر 8.5 ارب ڈالر اور درآمدات 14.1 فیصد بڑھ کر 17.8 ارب ڈالر رہیں۔
- وزارتِ خزانہ کے مطابق سہ ماہی میں مہنگائی 10.2 فیصد رہی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے جمعرات کو کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں "encouraging growth" ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ عالمی منڈیوں، سپلائی چین اور لاجسٹکس میں رکاوٹوں کے باوجود ہوا۔
وزارتِ خزانہ کی تازہ ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر ترسیلاتِ زر، برآمدات اور بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری میں سالانہ بنیاد پر اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مہنگائی اور درآمدات بھی بڑھیں۔
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر 10.9 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 14 فیصد زیادہ ہیں۔ ستمبر 2026 میں ترسیلات سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد بڑھ کر 3.6 ارب ڈالر رہیں۔
سہ ماہی میں برآمدات 7.7 فیصد اضافے سے 8.5 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ستمبر میں 15.5 فیصد بڑھ کر 3 ارب ڈالر ہو گئیں۔ درآمدات برآمدات سے تیزی سے بڑھیں: سہ ماہی میں 14.1 فیصد اضافے سے 17.8 ارب ڈالر اور ستمبر میں 22.7 فیصد اضافے سے 6.2 ارب ڈالر۔
بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری سہ ماہی میں 719.7 ملین ڈالر رہی، جو 19.9 فیصد زیادہ ہے، جبکہ ستمبر میں یہ 219.5 ملین ڈالر تھی۔ رپورٹ کے مطابق 15,440 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو 37.3 فیصد اضافہ ہے۔
مہنگائی سہ ماہی میں 10.2 فیصد اور ستمبر میں 10.3 فیصد رہی، جبکہ پچھلے سال ستمبر میں یہ 5.8 فیصد تھی۔ 26 اکتوبر کو پالیسی ریٹ 12 فیصد تھا۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار سہ ماہی میں 1.85 فیصد اور اگست میں 0.67 فیصد بڑھی۔
ایف بی آر نے سہ ماہی میں 3,086.2 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، جن میں ستمبر کے 1,363.8 ارب روپے شامل ہیں، جو 11.5 فیصد زیادہ ہیں۔ وفاقی نان ٹیکس آمدن 2,365.9 ارب روپے رہی۔ مالیاتی خسارہ 1,197.9 ارب روپے اور پرائمری سرپلس 2,311.2 ارب روپے رہا۔
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر اکتوبر میں 21.5 ارب ڈالر تھے اور 28 اکتوبر کو روپیہ 278.6 فی ڈالر پر تھا۔ اسی دن پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 165,736 پوائنٹس پر پہنچا اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن 18.33 کھرب روپے رہی۔ زرعی قرضے 32.7 فیصد بڑھ کر 540.5 ارب روپے ہو گئے۔
یہ کیوں اہم ہے
ترسیلاتِ زر اور برآمدات پاکستان میں گھرانوں کی آمدن، روزگار اور روپے پر اثر ڈالتی ہیں، جبکہ مہنگائی اور درآمدات میں اضافہ رہن سہن کے اخراجات اور تجارتی خسارے سے جڑا ہے۔



