پاکستان کی فضائی حدود تائیوانی ایئرلائنز کے لیے بند: بلومبرگ
بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت تائیوانی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس فیصلے کی تصدیق کی۔

- بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے تائیوانی ایئرلائنز پر فضائی حدود کی پابندی لگا دی
- خواجہ آصف نے کہا کہ صرف چینی ایئرلائنز کو اجازت ہے
- چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر 25 اکتوبر سے پاکستانی حدود سے نہیں گزریں
بلومبرگ نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی پاسداری کرتے ہوئے تائیوانی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق کسی بھی ملک کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ کو اس فیصلے کی تصدیق کی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایوی ایشن ڈویژن ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے اور صرف مین لینڈ چین کو اجازت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "ہم نے صرف چینی ایئرلائنز کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔" اسلام آباد اب صرف عوامی جمہوریہ چین کی ایئرلائنز کو اوور فلائنگ کی اجازت دیتا ہے، تائیوان کی نہیں۔
بلومبرگ کے حوالے سے فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کے مطابق چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئرویز کے طیارے 25 اکتوبر کی صبح کے بعد سے پاکستانی فضائی حدود سے نہیں گزرے۔ تائیوانی کمپنیوں نے ہفتے کے آخر میں اپنی پروازوں کے راستے بدلنا شروع کیے۔
بلومبرگ کے مطابق اتوار سے اب تک ان دونوں تائیوانی ایئرلائنز کی ایشیا اور یورپ کے درمیان کم از کم 12 پروازوں نے پاکستان کے بجائے روسی فضائی حدود استعمال کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ منتخب راستوں کے لحاظ سے پرواز کی منصوبہ بندی اور سفر کے دورانیے پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دونوں ایئرلائنز نے بلومبرگ کو تبصرے سے انکار کیا، جبکہ تائیوان کی سول ایوی ایشن انتظامیہ نے راستوں کی تبدیلی پر کچھ نہیں کہا۔ چین اور تائیوان کی وزارتِ خارجہ نے بھی فوری جواب نہیں دیا۔
پاکستان کی پابندیاں چین کی اپنی پابندیوں سے زیادہ سخت ہیں، کیونکہ چین تائیوانی ایئرلائنز کو اپنی حدود سے پرواز کی اجازت دیتا ہے۔ بیجنگ تائیوان کو الگ ہونے والا صوبہ سمجھتا ہے، جبکہ تائپے اپنی آزادی پر اصرار کرتا ہے۔
پاکستان نے 1951 میں ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان سے سرکاری تعلقات ختم کر دیے تھے۔ اسلام آباد اور بیجنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے تعلقات مضبوط کیے ہیں، جس سے پاکستان میں اربوں ڈالر آئے۔ رپورٹس کے مطابق علاقائی فضائی آمدورفت پر طویل مدتی اثر ابھی واضح نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
اس فیصلے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان پرواز کرنے والی تائیوانی ایئرلائنز کے راستے بدل گئے ہیں اور یہ تائیوان کے بارے میں پاکستان کی ہوابازی پالیسی میں نیا قدم ہے۔



