29 اکتوبر کے ہفتے میں سالانہ مہنگائی 11.32 فیصد رہی
سینسیٹو پرائس انڈیکیٹر کے مطابق 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ مہنگائی 11.32 فیصد رہی۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں انڈیکس 0.35 فیصد کم ہوا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ مہنگائی 11.32 فیصد رہی۔
- مجموعی انڈیکس ہفتہ وار 0.35 فیصد کمی سے 373.51 پر آ گیا۔
- ایل پی جی سالانہ بنیاد پر 106.86 فیصد مہنگی ہوئی۔
- 51 اشیا میں سے 15 مہنگی، 12 سستی اور 24 کی قیمتیں برقرار رہیں۔
ادارۂ شماریات پاکستان نے جمعے کو جاری اعداد و شمار میں بتایا کہ 29 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں سینسیٹو پرائس انڈیکیٹر (ایس پی آئی) کے مطابق سالانہ مہنگائی 11.32 فیصد رہی۔
ہفتہ وار بنیاد پر مجموعی ایس پی آئی 0.35 فیصد کم ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انڈیکس 373.51 پر رہا، جو گزشتہ ہفتے 374.84 تھا، جبکہ ایک سال پہلے یہ 335.53 تھا۔ 24 نیوز بزنس کے مطابق خوراک اور توانائی کی بلند قیمتیں گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈالتی رہیں۔
ایس پی آئی 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 ضروری اشیا کی ہفتہ وار قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے۔ ان میں سے 15 اشیا (29.41 فیصد) مہنگی ہوئیں، 12 (23.53 فیصد) سستی ہوئیں اور 24 (47.06 فیصد) کی قیمتیں تبدیل نہیں ہوئیں۔
ہفتہ وار بنیاد پر پہلے کھپت کوئنٹائل کے لیے بجلی کے نرخ 3.92 فیصد کم ہوئے۔ مرغی 2.95 فیصد، انڈے 2.81 فیصد، گندم کا آٹا 0.83 فیصد اور ایل پی جی 0.73 فیصد سستی ہوئی۔ رپورٹوں کے مطابق پیٹرول، چینی، پاؤڈر دودھ، کیلے، چاول اور دالوں کی قیمتیں بھی کم ہوئیں۔
ٹماٹر کی قیمت ہفتے میں 34.91 فیصد بڑھی، جو سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ تھا۔ آلو 3.27 فیصد، ڈیزل 2.53 فیصد اور چنے کی دال 2.11 فیصد مہنگی ہوئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ڈبل روٹی، پیاز، تازہ دودھ اور دہی میں معمولی اضافہ ہوا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں ایل پی جی کی قیمت 106.86 فیصد بڑھی، جو سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ سب سے کم کھپت والے کوئنٹائل کے لیے بجلی 52.38 فیصد، ڈیزل 45.13 فیصد، پیٹرول 43.61 فیصد، گندم کا آٹا 34.87 فیصد اور مرغی 31.72 فیصد مہنگی ہوئی۔
کچھ اشیا ایک سال پہلے سے سستی رہیں: آلو 38.67 فیصد، ٹماٹر 27.99 فیصد، انڈے 26.70 فیصد اور چینی 25.21 فیصد۔
آمدنی کے گروپوں میں سب سے زیادہ آمدنی والے کوئنٹائل (کیو 5) میں سالانہ مہنگائی 12.13 فیصد رہی، جو کوئنٹائلز میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ سب سے کم آمدنی والے گروپ (کیو 1) میں 8.07 فیصد رہی۔ کیو 5 میں ہفتہ وار سب سے بڑی کمی 0.41 فیصد رہی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کے تنازع اور سعودی عرب کے ساتھ حوثیوں کے تصادم سے جڑے عالمی رسد کے خدشات ایندھن اور ایل پی جی کی قیمتوں پر اثر ڈال رہے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
مہنگائی سے پاکستان بھر کے گھرانوں کے بجٹ پر براہ راست دباؤ پڑتا ہے؛ ایل پی جی، ایندھن، بجلی، آٹے اور مرغی کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر نمایاں بڑھی ہیں۔



