ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

آبی ذخائر اور آبپاشی کے لیے دس سال میں 18 ارب ڈالر درکار: پلاننگ کمیشن

پلاننگ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اسٹریٹجک آبی انفراسٹرکچر کے لیے آئندہ دس سال میں تقریباً 18 ارب ڈالر کی وفاقی فنانسنگ درکار ہے۔ منصوبے کا ہدف 2029 تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 15.318 سے بڑھا کر 23.54 ملین ایکڑ فٹ کرنا ہے۔

Photo: reservoir, mountain, lake, panorama
Photo: reservoir, mountain, lake, panorama تصویر: Tuor / Pixabay
اہم نکات
  • پلاننگ کمیشن کے مطابق دس سال میں آبی انفراسٹرکچر کے لیے 18 ارب ڈالر کی وفاقی فنانسنگ درکار
  • 2029 تک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 15.318 سے 23.54 ملین ایکڑ فٹ کرنے کا ہدف
  • پانی کے استعمال کی کارکردگی 40 فیصد سے 70 فیصد کرنے کا ہدف
  • مرالہ ہیڈ ورکس پر سیلابی انتباہ کا وقت 2014 میں 40 گھنٹے سے 2025 میں 5.5 گھنٹے رہ گیا
18 ارب ڈالردس سال میں درکار وفاقی فنانسنگ
23.54 ملین ایکڑ فٹ (موجودہ 15.318)2029 تک ذخیرے کا ہدف
70 فیصد (موجودہ 40 فیصد)پانی کے استعمال کی کارکردگی کا ہدف
40 گھنٹے بمقابلہ 5.5 گھنٹےمرالہ پر سیلابی انتباہ کا وقت، 2014 بمقابلہ 2025

پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اسٹریٹجک آبی انفراسٹرکچر کے لیے آئندہ دس سال میں تقریباً 18 ارب ڈالر کی وفاقی فنانسنگ درکار ہوگی۔ یہ رقم سیلاب سے بچاؤ، ذخائر کی تعمیر اور نہروں کی جدید کاری پر خرچ ہوگی، کیونکہ ملک میں پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔

اڑان پاکستان کے تحت نیشنل واٹر سیکیورٹی فریم ورک میں پانی کے استعمال کی کارکردگی موجودہ 40 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح 2029 تک کھیتوں تک پانی کی دستیابی 58.3 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 79 ملین ایکڑ فٹ کرنے کا ارادہ ہے۔

رپورٹ میں 2029 تک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 15.318 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 23.54 ملین ایکڑ فٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ لائیو اسٹوریج دریائے سندھ کے سالانہ بہاؤ کا صرف 11 فیصد ہے۔ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے جاری منصوبوں سے 9.821 ملین ایکڑ فٹ اضافہ متوقع ہے، جبکہ آکھڑی آف چینل اسٹوریج ڈیم، شیوک ڈیم اور اسکردو ڈیم سمیت مجوزہ منصوبوں سے تقریباً 14.5 ملین ایکڑ فٹ مزید گنجائش مل سکتی ہے۔

فریم ورک میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے تحت ''واٹر سسٹم انٹیگریٹر'' کا کردار قائم کرنے کی تجویز ہے تاکہ دریاؤں سے کھیتوں تک پانی کی تقسیم میں جواب دہی بہتر ہو۔ پاکستان میں میٹھے پانی کے تقریباً 95 فیصد استعمال کا حصہ زراعت کا ہے۔

آبپاشی اصلاحات میں ڈرپ اور اسپرنکلر نظام کے لیے مالی مراعات، آبیانہ کو اصل آپریشن و مینٹیننس لاگت کے مطابق بنانا اور فصلوں کے انتخاب کو معقول بنانا شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق رسمی آبپاشی نیٹ ورک سے باہر تقریباً 20.58 ملین ایکڑ موزوں زرعی زمین موجود ہے۔ سولر ٹیوب ویلوں کی سبسڈی کو زیر زمین پانی کی رجسٹریشن اور پائیدار نکاسی کی حد سے جوڑنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، کیونکہ سولرائزیشن سے کسان تقریباً صفر اضافی توانائی لاگت پر پانی نکال رہے ہیں اور زیر زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں زیر زمین پانی کی سطح ہر سال 0.5 سے ایک میٹر گر رہی ہے، جبکہ انڈس بیسن ایکویفر دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ایکویفر نظام قرار دیا گیا ہے۔ مرالہ ہیڈ ورکس پر سیلاب کی پیشگی اطلاع کا وقت 2014 میں 40 گھنٹے تھا جو 2025 میں صرف 5.5 گھنٹے رہ گیا۔

رپورٹ میں پانی کے تحفظ کو قومی سلامتی کا ایجنڈا قرار دینے، نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان-IV نافذ کرنے، نیشنل گلیشیئر پروٹیکشن ایکٹ کے ذریعے گلیشیئرز کی نگرانی مضبوط کرنے اور تازہ ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی بنیاد پر سیلابی ڈیزائن کا ازسرنو جائزہ لینے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ فریم ورک میں شہری گندے پانی کا کم از کم 25 فیصد ری سائیکل کرنے کی بھی تجویز ہے، جبکہ رپورٹ کے مطابق نگرانی کیے گئے شہری آبی ذرائع میں سے تقریباً 53 فیصد انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ ہیں۔

پلاننگ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ 2029 کے اہداف حاصل کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر، ریگولیٹری اصلاحات اور پانی کے بہتر انتظام پر مربوط عمل درآمد ضروری ہوگا۔

یہ کیوں اہم ہے

پانی کے ذخائر، آبپاشی کی کارکردگی اور سیلابی انتباہی نظام پاکستان بھر کے گھرانوں کے لیے پانی کی فراہمی، کھیتی باڑی اور سیلاب کے خطرے پر اثر ڈالتے ہیں۔ ملک میں میٹھے پانی کا تقریباً 95 فیصد زراعت میں استعمال ہوتا ہے اور پنجاب میں زیر زمین پانی کی سطح گر رہی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

آبی تحفظڈیمآبپاشی

اس خبر پر مزید