امریکا اور ایران کی سفارتی کوششوں پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی
قطر کی ثالثی میں مذاکرات سے ایران جنگ کے خاتمے کی امید پر پیر کو تیل کی قیمتیں تقریباً 3 فیصد گر گئیں۔ برنٹ خام تیل 109 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا جبکہ امریکی خام تیل 100 ڈالر کے آس پاس تھا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- پیر کو برنٹ خام تیل تقریباً 3 فیصد کمی سے 109 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گیا۔
- قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد امریکی خام تیل (WTI) 100 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔
- فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہے۔
- گولڈمین سیکس نے سال کے آخر کے لیے برنٹ کا تخمینہ 90 سے بڑھا کر 105 ڈالر کر دیا۔
پیر کو تیل کی قیمتیں تقریباً 3 فیصد گر گئیں، کیونکہ اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران دونوں جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ فروری کے آخر سے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے۔
سی این بی سی کے مطابق جنوری کی ڈیلیوری کے برنٹ فیوچرز 3.91 فیصد کمی سے 109.00 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ دسمبر کے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ فیوچرز 4.1 فیصد کمی سے 99.85 ڈالر رہے۔ عرب نیوز کے مطابق سعودی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 7 منٹ پر برنٹ 3.68 ڈالر یعنی 3.2 فیصد کمی سے 109.75 ڈالر اور WTI 100.69 ڈالر پر تھا۔ یورونیوز نے برنٹ کو تقریباً 108.5 ڈالر بتایا، جو جمعہ کے اختتام سے تقریباً 2.8 فیصد کم ہے۔ عرب نیوز کے مطابق برنٹ اکتوبر کے اختتام پر چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر تھا۔
ایرانی اور قطری حکام کے درمیان مسلسل تیسرے دن بات چیت ہوئی۔ الجزیرہ کے حوالے سے سی این بی سی نے بتایا کہ ایرانی حکام نے اشارہ دیا کہ اگر ایران کے مطالبات عملی طور پر نافذ کیے جائیں تو معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ زیر بحث منصوبے سے آبنائے ہرمز صرف دو دن میں کھل سکتی ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کئی شرائط پوری کرے، اور یہ کہ تہران امریکا سے براہ راست بات چیت نہیں کر رہا۔
ایران پہلے اپنی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، تیل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے اور تمام علاقائی محاذوں پر لڑائی روکنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ہم یہ کام پرامن طریقے سے کرنا پسند کریں گے (انگریزی سے ترجمہ)، اور ہفتے کو کہا کہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی آپشن کھلا رکھا۔ انہوں نے مذاکرات کو ٹھیک چلتا ہوا (انگریزی سے ترجمہ) قرار دیا، ایرانیوں کو زیادہ قابل اعتماد نہیں کہا اور کہا کہ امریکا کو ابھی ایک دو مقامات سے نمٹنا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا منگل کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ نئی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ پر زور دیا کہ ووٹنگ کے فوراً بعد حملے دوبارہ شروع کیے جائیں۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کو مسلح افواج سے کہا کہ ہر خطرے کا فوری جواب دیا جائے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایک جہاز سے پراجیکٹائل ٹکرانے کی اطلاع ملی، جبکہ ایران نے جمعہ کو جہازوں پر متعدد حملوں کی اطلاع دی تھی۔
گولڈمین سیکس کے مطابق تقریباً 27 ڈالر فی بیرل کا جغرافیائی سیاسی خطرے کا پریمیم اکتوبر میں خام تیل کی تیزی کی بڑی وجہ ہے، اور اس نے سال کے آخر کے لیے برنٹ کا تخمینہ 90 سے بڑھا کر 105 ڈالر کر دیا۔ پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا کہ حملے جاری ہیں اور دیرپا جنگ بندی پر اعتماد کم ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ پھر بھی امید زندہ رہتی ہے (انگریزی سے ترجمہ)۔ دوسری جانب اوپیک پلس نے دسمبر کے پیداواری اہداف برقرار رکھے۔
یہ کیوں اہم ہے
تیل کی قیمتوں کا اثر پاکستان میں پیٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں اور درآمدی بل پر پڑتا ہے، اس لیے امریکا ایران مذاکرات اور ہرمز کی جہاز رانی پر نظر رکھی جا رہی ہے۔



