ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

آئی ایم ایف کی ٹیکس شارٹ فال پر تشویش، ہنگامی اقدامات کی تجویز

آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی میں کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اکتوبر میں شارٹ فال 129 ارب روپے رہا۔

8 digit fixed display
8 digit fixed display تصویر: Coyau / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • ذرائع کے مطابق اکتوبر میں 129 ارب روپے کا شارٹ فال
  • سالانہ ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے ہے
  • آئی ایم ایف ریٹیل، ہول سیل، زراعت اور پیشہ ور افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتا ہے
  • وزیر مملکت کے مطابق غیر رجسٹرڈ دکانداروں کے خلاف کارروائی ہوگی
129 ارب روپےاکتوبر کا شارٹ فال
96 ارب روپےپہلے چار ماہ کا شارٹ فال
15 ہزار 264 ارب روپےسالانہ وصولی ہدف
7 ارب ڈالرآئی ایم ایف قرض پروگرام

ایکسپریس نیوز اور ٹیک جوس کی رپورٹوں کے مطابق، جو ذرائع کے حوالے سے ہیں، آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکس وصولی کا شارٹ فال پورا کرنے کو کہا ہے اور ہدف مسلسل پورا نہ ہونے کی صورت میں ہنگامی ٹیکس اقدامات تجویز کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عالمی ادارے نے اکتوبر میں 129 ارب روپے کے شارٹ فال کی نشاندہی کی۔ مالی سال کے پہلے چار ماہ میں یہ فرق 96 ارب روپے بتایا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ 15 ہزار 264 ارب روپے کا سالانہ وصولی ہدف حاصل کیا جائے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھائی جائے۔ اس نے وفاقی اور صوبائی سطح پر جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ادارے نے نئے بجٹ سے پہلے ریٹیل، ہول سیل اور زرعی شعبوں سے ٹیکس وصولی میں پیش رفت کی تجویز دی ہے۔ اس نے پیشہ ور افراد سمیت ٹیکس نیٹ سے باہر تمام شعبوں کو نیٹ میں لانے پر بھی زور دیا ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق شارٹ فال مزید بڑھا تو حکومت کو عوام پر نئے ٹیکس لگانے یا سرکاری اخراجات کم کرنے میں سے ایک راستہ چننا پڑ سکتا ہے۔ آئندہ معاشی جائزوں میں ریونیو سے متعلق شرائط مزید سخت ہونے کا امکان ہے اور اگلے مالی سال کے لیے بھی سخت ہو سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق 7 ارب ڈالر کے قرض پروگram کی طے شدہ شرائط پوری کرنا لازمی ہے۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ ایزی ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور جرمانے عائد ہوں گے۔ رجسٹریشن توقع سے کم ہے اور انہوں نے کہا کہ نفاذ کا طریقہ کار چند دن میں پیش کیا جائے گا۔

کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے اسکیم کی پیش رفت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ حکومت کو توقع تھی کہ 80 فیصد دکاندار رجسٹر ہوں گے۔

یہ کیوں اہم ہے

ایف بی آر حکام کے مطابق شارٹ فال بڑھنے پر نئے ٹیکسوں یا اخراجات میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کا اثر گھرانوں اور کاروباروں پر پڑ سکتا ہے۔ ایزی ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں کو جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

آئی ایم ایفایف بی آرٹیکس وصولی

اس خبر پر مزید