عمران خان کی بہن نورین نیازی جیل سے لاہور کے امراضِ قلب کے اسپتال منتقل
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی 70 سالہ بہن نورین نیازی کو بدھ کو طبیعت بگڑنے پر کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور منتقل کیا گیا، ان کے وکیل کے مطابق۔ مشیر رانا ثناء اللہ نے بعد میں سینیٹ کو بتایا کہ ان کی حالت مستحکم ہے اور ٹیسٹ نارمل آئے ہیں۔

- 70 سالہ نورین نیازی کو بدھ کو کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا۔
- ان کے وکیل کے مطابق اہلِ خانہ کو منتقلی کی اطلاع نہیں دی گئی۔
- رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں کہا کہ ان کی حالت مستحکم اور ٹیسٹ نارمل ہیں۔
- انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ کی ملاقات کی کوشش کریں گے۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی 70 سالہ بہن نورین نیازی کو بدھ کے روز طبیعت بگڑنے پر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور میں داخل کرایا گیا۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق انہیں کوٹ لکھپت جیل سے اسپتال لایا گیا۔
رانا مدثر عمر نے کہا کہ نورین نیازی کو جیل میں صحت خراب ہونے کے باعث منتقل کیا گیا اور خاندان کے کسی فرد کو اس منتقلی کی اطلاع نہیں دی گئی۔ منٹ مرر کے مطابق انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ان کے اسپتال میں داخل ہونے کی تصدیق کی۔
ان کی حالت کے بارے میں رپورٹس میں فرق ہے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق انہیں سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری ہوئی اور وہ شام 6 بج کر 51 منٹ پر ایمرجنسی میں پہنچیں، جہاں ڈاکٹر ممکنہ دل کے دورے کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایکسپریس نیوز نے پی ٹی آئی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خون کے کئی ٹیسٹ کیے جا رہے تھے اور وہ اسٹرکچرل ہارٹ ڈیزیز ڈیپارٹمنٹ کے ایک پرائیویٹ کمرے میں زیرِ علاج تھیں۔
پی ٹی آئی نے ان کی صحت پر شدید تشویش ظاہر کی اور حکومت پر سیاسی بنیادوں پر عمران خان کی بہن اور دیگر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے اور ان سے ناروا سلوک کا الزام لگایا۔ پارٹی نے کہا کہ سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ اتنی سنگین صورتحال کے باوجود خاندان کے ایک فرد کو بھی اسپتال منتقلی کی اطلاع نہیں دی گئی۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو ذمہ داری براہِ راست موجودہ حکمرانوں اور متعلقہ انتظامیہ پر ہوگی۔
عمران خان کی بہنیں ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت اس وقت حراست میں لی گئیں جب پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ علیمہ کو 20 ستمبر کو جبکہ عظمیٰ اور نورین کو 21 ستمبر کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی احکامات 30 دن کے تھے اور 7 اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل میں حراست مزید 30 دن بڑھا دی گئی۔
26 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ نے تینوں بہنوں کی رہائی کی درخواست نمٹا دی، جب پنجاب حکومت نے تصدیق کی کہ ان کی حراست میں 30 دن کی توسیع کی گئی ہے۔
جمعرات کو وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں کہا کہ نورین نیازی کو بیمار ہوتے ہی فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، ان کی حالت مستحکم ہے اور تمام طبی ٹیسٹ نارمل آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے وضاحت لیں گے اور اہلِ خانہ کی ملاقات یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔ وہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا کہ نورین نیازی آئی سی یو میں ہیں اور بہنوں کی نظربندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ علی امین گنڈاپور نے بھی عمران خان کی تمام بہنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ رپورٹس میں آئی سی یو کے دعوے اور حکومتی مؤقف کے فرق کی وضاحت نہیں ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
عمران خان کی بہنوں کی نظربندی پی ٹی آئی کے جیل میں قید بانی سے جڑی سیاسی کہانی کا حصہ ہے، اور اسپتال میں زیرِ علاج قیدی سے اہلِ خانہ کی ملاقات کا معاملہ اب سینیٹ میں زیرِ بحث آیا ہے۔



