ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان5 ذرائع سے تصدیق شدہ

نیپرا نے بجلی 2.56 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

نیپرا نے ستمبر کے لیے بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ منظوری کی صورت میں صارفین سے تقریباً 32 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے جائیں گے۔

Photo: wires, electrical current, electricity, high voltage
Photo: wires, electrical current, electricity, high voltage تصویر: Couleur / Pixabay
اہم نکات
  • سی پی پی اے جی کی درخواست پر سماعت کے بعد نیپرا نے فیصلہ محفوظ کیا۔
  • ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ 2.56 روپے فی یونٹ مانگی گئی ہے۔
  • صارفین پر تقریباً 32.7 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔
  • اوسط فیول لاگت 10.02 روپے فی یونٹ رہی جبکہ ریفرنس 7.46 روپے تھا۔
2.56 روپے فی یونٹمجوزہ اضافہ
32.7 ارب روپےوصولی کی رقم
10.02 روپے فی یونٹستمبر کی اوسط فیول لاگت
7.46 روپے فی یونٹریفرنس فیول لاگت

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ستمبر کے لیے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تجویز پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یہ سماعت سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے جی) کی درخواست پر ہوئی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق 2.5624 روپے فی یونٹ کی مثبت ایڈجسٹمنٹ سے صارفین سے 32 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے جائیں گے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے تحت اس اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق نیپرا نے سی پی پی اے جی اور پی پی ایم سی سے پاور سیکٹر کے مبینہ طور پر ناقابل اعتبار ڈیٹا پر سوالات کیے۔ صنعتی صارفین نے بھی سستے ذرائع دستیاب ہونے کے باوجود مہنگے ایندھن کے استعمال پر سوال اٹھایا۔

سی پی پی اے جی کے مطابق ستمبر میں بجلی کی اوسط ایندھن لاگت 10.02 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ ریفرنس قیمت 7.46 روپے تھی۔ بجلی کی پیداوار کی کل لاگت 127.87 ارب روپے رہی۔ اس میں آر ایل این جی سے 31.93 ارب، درآمدی کوئلے سے 37.14 ارب، مقامی گیس سے 13.89 ارب، ڈیزل سے 13.26 ارب، فرنس آئل سے 11.81 ارب اور مقامی کوئلے سے 7.95 ارب روپے شامل ہیں۔

حکام نے اضافے کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ بتایا۔ ان کے مطابق کوئلے کی قیمت 15 ڈالر فی ٹن بڑھی اور آر ایل این جی اسپاٹ کارگو 28 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکام نے اسپاٹ ایل این جی کی قیمت تقریباً 27.33 ڈالر بتائی۔

حکام کے مطابق مہنگی بولیوں کے باعث ایل این جی اسپاٹ کارگو کی خریداری منسوخ کر دی گئی۔ 27 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی آئی تھی، مگر دیگر چارجز ملا کر لاگت 33 ڈالر تک پہنچ رہی تھی۔

ستمبر میں ملک بھر میں بجلی کی طلب 10,549 گیگاواٹ آور رہی، جو ایک سال پہلے کے 9,904 گیگاواٹ آور سے 645 گیگاواٹ آور یعنی تقریباً 6.5 فیصد زیادہ ہے۔ گھریلو کھپت 8.4 فیصد بڑھ کر 5,810 گیگاواٹ آور اور صنعتی کھپت 6.7 فیصد بڑھ کر 2,597 گیگاواٹ آور ہو گئی۔ زرعی کھپت 6.7 فیصد کمی سے 376 گیگاواٹ آور رہی۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے 12.76 ارب یونٹ فروخت کیے۔

آر ایل این جی کی یومیہ طلب 350 ایم ایم سی എഫ ڈی تھی جبکہ ایس این جی پی ایل نے 218 ایم ایم سی ایف ڈی فراہم کی۔ اصل کھپت 194 ایم ایم سی ایف ڈی رہی، جو مختص مقدار کا تقریباً 90 فیصد ہے۔ ہویلی بہادر شاہ نے 78 ایم ایم سی ایف ڈی مانگی مگر اسے 10.7 ایم ایم سی ایف ڈی ملی۔

یہ کیوں اہم ہے

نیپرا کی منظوری کی صورت میں کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے گھریلو اور کاروباری صارفین کے بجلی بل بڑھ جائیں گے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

نیپرابجلی کے نرخسی پی پی اے جی

اس خبر پر مزید