ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور میں تین کال سینٹرز پر چھاپے، این سی سی آئی اے نے 42 افراد پکڑ لیے

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے لاہور میں تین مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپوں میں 11 خواتین سمیت 42 افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان کال سینٹرز پر بیرون ملک، خصوصاً امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

Photo: call center, headset, smile, office work
Photo: call center, headset, smile, office work تصویر: geralt / Pixabay
اہم نکات
  • تین چھاپوں میں 11 خواتین سمیت 42 مشتبہ افراد گرفتار ہوئے۔
  • چھاپے گارڈن ٹاؤن، گلبرگ اور او پی ایف سوسائٹی میں مارے گئے۔
  • 67 لیپ ٹاپ، 50 موبائل فون اور دو سرور سسٹم قبضے میں لیے گئے۔
  • الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔
42گرفتار مشتبہ افراد
11گرفتار خواتین
67ضبط شدہ لیپ ٹاپ
50ضبط شدہ موبائل فون

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور میں تین مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے مار کر 11 خواتین سمیت 42 افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان کال سینٹرز پر بیرون ملک صارفین، خاص طور پر امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

چھاپے گارڈن ٹاؤن، گلبرگ اور او پی ایف سوسائٹی میں این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف عامر کی ہدایت پر مارے گئے۔ تفتیش کاروں نے 67 لیپ ٹاپ، 50 موبائل فون، دو سرور سسٹم اور دیگر کمپیوٹر آلات قبضے میں لیے۔

ایجنسی کے مطابق مشتبہ افراد خود کو امریکی ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کرتے تھے۔ وہ مبینہ طور پر صارفین کو موبائل فون اپ گریڈ، ٹیلی کام پیکجز اور سم سے متعلق سروسز کی پیشکش کرتے، اور ان کے ذریعے مالی معلومات حاصل کر کے غیر مجاز لین دین سے رقم وصول کرتے تھے۔

سب سے زیادہ گرفتاریاں گارڈن ٹاؤن میں ہوئیں، جہاں 10 خواتین سمیت 22 مشتبہ افراد پکڑے گئے۔ وہاں سے 19 لیپ ٹاپ، ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور 24 موبائل فون برآمد ہوئے۔ گلبرگ میں ایک خاتون سمیت سات افراد گرفتار ہوئے اور 28 لیپ ٹاپ اور 12 موبائل فون قبضے میں لیے گئے۔

او پی ایف سوسائٹی میں 13 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔ وہاں سے 20 لیپ ٹاپ، 14 موبائل فون اور دو سرور سسٹم برآمد ہوئے۔

عاطف عامر نے بتایا کہ گارڈن ٹاؤن سے ملنے والے ڈیجیٹل مواد کے ابتدائی جائزے میں ڈائلر سافٹ ویئر اور مشکوک سرگرمیوں سے متعلق ڈیٹا سامنے آیا ہے۔ تمام ضبط شدہ آلات تفصیلی فرانزک تجزیے کے لیے ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔

تفتیش کار ڈیجیٹل ریکارڈ، مشتبہ مالی لین دین اور تینوں کال سینٹرز کے درمیان ممکنہ روابط کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ گرفتار افراد کے انفرادی کردار کا تعین ہو سکے۔ حکام دیگر ممکنہ ملوث افراد کی شناخت اور یہ جاننے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ آیا ملزمان بیرون ملک صارفین کو نشانہ بنانے والے کسی وسیع نیٹ ورک سے منسلک تھے۔

عاطف عامر کے مطابق لاہور زون جائز ٹیلی مارکیٹنگ کی آڑ میں بیرون ملک صارفین سے مبینہ فراڈ کرنے والے افراد اور گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ الزامات کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی ذمہ داری کا تعین قانونی عمل کے ذریعے ہو گا۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان میں کال سینٹرز پر غیر ملکی صارفین سے فراڈ کے الزامات ملک کے تشخص کے لیے باعث تشویش ہیں۔ یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ این سی سی آئی اے لاہور میں ایسی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

این سی سی آئی اےلاہورسائبر فراڈ

اس خبر پر مزید