ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

این سی سی آئی اے ڈیٹا: سائبر فراڈ میں پاکستانیوں کے اربوں روپے لٹ گئے

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ تین سال میں سائبر مجرموں نے پاکستانیوں کے 8 ارب 32 کروڑ روپے لوٹے۔ این سی سی آئی اے اس دوران صرف 3 ہزار 82 ملزمان کو پکڑ سکی۔

Photo: ecommerce, shopping, credit card, payment
Photo: ecommerce, shopping, credit card, payment تصویر: StockSnap / Pixabay
اہم نکات
  • رپورٹ کے مطابق تین سال میں 8 ارب 32 کروڑ روپے لوٹے گئے
  • این سی سی آئی اے نے تین سال میں 3 ہزار 82 سائبر مجرم پکڑے
  • 2024 میں 83 ہزار شکایات آئیں اور 863 ایف آئی آرز درج ہوئیں
  • سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 60 فیصد سائبر کرائم مالی فراڈ ہیں
8 ارب 32 کروڑ روپےتین سال میں نقصان
3082تین سال میں گرفتاریاں
83 ہزار2024 میں شکایات
60 فیصدمالی فراڈ کا تناسب

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ تین سال کے دوران سائبر مجرموں نے پاکستانیوں کے 8 ارب 32 کروڑ روپے لوٹ لیے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اس عرصے میں صرف 3 ہزار 82 ملزمان کو گرفتار کر سکی، جبکہ مقدمات کا اندراج بہت کم ہے۔

دستاویز میں سالانہ اعداد و شمار بھی دیے گئے ہیں۔ 2024 میں تقریباً 83 ہزار شکایات موصول ہوئیں اور 863 ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ 2025 میں 76 ہزار شکایات آئیں اور 999 ایف آئی آرز ہوئیں۔ 2026 میں 68 ہزار شکایات آئیں اور 391 مقدمات درج ہوئے۔ فراڈ کا شکار ہونے والوں کی تعداد 2024 میں 83 ہزار، 2025 میں 76 ہزار 646 اور 2026 میں 68 ہزار 31 بتائی گئی۔

دوسری جانب روزنامہ جنگ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سائبر کرائم کے 60 فیصد معاملات مالی فراڈ سے متعلق ہیں۔

حکام کے مطابق سب سے زیادہ فراڈ او ٹی پی کے ذریعے ہوتا ہے، جبکہ واٹس ایپ یا ایس ایم ایس کے ذریعے فراڈ دوسرے نمبر پر ہے۔ اکاؤنٹ ہیک کرنے اور کرپٹو پونزی اسکیمز مالی فراڈ کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں۔

کمیٹی کی چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ کرپٹو کا معاملہ میر رضا کیس میں بھی تھا اور کیس کی تفصیلات بہت فلمی انداز میں سامنے آئیں۔ سینیٹر قرۃ العین مری نے ارکان پارلیمنٹ فرحان چشتی اور شہریار مہر کے ساتھ فراڈ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ملزمان نے دونوں ارکان کی ڈپلیکیٹ سمیں حاصل کر لیں۔

این سی سی آئی اے حکام نے کہا کہ یہ معاملہ ٹیلی کام کمپنیوں اور ایس ای سی پی سے متعلق ہے اور ان سے جواب لیا جائے۔ حکام نے چینی سفارتخانے کے ساتھ آن لائن فراڈ پر بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ فراڈ کرنے والے کمبوڈیا میں بیٹھے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستانی شہری آن لائن فراڈ میں اربوں روپے گنوا رہے ہیں، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق موصول شکایات کے مقابلے میں بہت کم مقدمات درج ہوئے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

این سی سی آئی اےسائبر کرائمآن لائن فراڈ

اس خبر پر مزید