ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان6 ذرائع سے تصدیق شدہ

قومی اسمبلی نے یومِ سیاہ پر کشمیر کے حق میں قرارداد منظور کر لی

قومی اسمبلی نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں متفقہ قرارداد منظور کی۔ قرارداد امیر مقام اور قاسم نون نے پیش کی۔

Jatiyo Sangsad Bhaban , Bangladesh.
Jatiyo Sangsad Bhaban , Bangladesh. تصویر: Nahid Sultan & Saiful Aopu / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0
اہم نکات
  • قومی اسمبلی نے کشمیر قرارداد متفقہ طور پر منظور کی
  • قرارداد امیر مقام اور قاسم نون نے پیش کی
  • اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کا مطالبہ
27 اکتوبریومِ سیاہ
5 اگست 2019مسترد کیے گئے بھارتی اقدامات

قومی اسمبلی نے 27 اکتوبر، یومِ سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔

قرارداد وفاقی وزیر امورِ کشمیر امیر مقام اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون نے مشترکہ طور پر پیش کی۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق اس میں کہا گیا کہ منصفانہ اور پُرامن تصفیہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی اپنی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

قرارداد میں کشمیریوں کی نسلوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جنہوں نے اس کے بقول غیر معمولی حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور بڑی قربانیاں دیں۔ اس میں بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مبینہ منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی۔

ارکان نے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ ایوان نے 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اقدامات اور بعد کے اقدامات مسترد کیے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ علاقے کی متنازع حیثیت اور آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے ہیں۔

قرارداد میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، آبادیاتی تبدیلی کی کوششیں روکے، قید کشمیری رہنماؤں کو رہا کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں اور آزاد مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی دے۔

عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ سے کہا گیا کہ وہ کشمیری عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ٹھوس اقدامات کرے اور بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔ ایوان نے کہا کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ ان قراردادوں اور عوام کی آزادانہ رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ بھارت تقریباً 80 سال سے کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے اور کشمیری اپنے موقف پر ڈٹے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں یکجہتی کی تقریب میں ہزاروں شہریوں اور طلبہ نے شرکت کی۔ اسمبلی نے حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر فورمز پر یہ معاملہ اٹھاتی رہے۔

یہ کیوں اہم ہے

قرارداد کشمیر پر قومی اسمبلی کا موقف سامنے لاتی ہے، جو تنازع پاکستان کی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر اثر رکھتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

کشمیرقومی اسمبلییومِ سیاہ

اس خبر پر مزید