قومی اسمبلی سے 30 رکنی انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کی منظوری
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری کے مطابق قومی اسمبلی نے الیکشن ریفارمز کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے۔ ارکان کے نام موصول ہونے پر اسپیکر جلد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

- قومی اسمبلی نے الیکشن ریفارمز کمیٹی کی تشکیل منظور کر لی
- کمیٹی 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، 20 قومی اسمبلی اور 10 سینیٹ سے
- اسپیکر نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے نام مانگ لیے ہیں
- تحریک پیش ہونے پر پی ٹی آئی نے مخالفت نہیں کی
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی نے الیکشن ریفارمز کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی جلد کمیٹی کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔
مجوزہ کمیٹی 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، جن میں 20 ارکان قومی اسمبلی اور 10 سینیٹ سے لیے جائیں گے۔ کمیٹی میں نشستیں ایوان میں جماعتوں کی عددی طاقت کے مطابق تقسیم کی جائیں گی۔
کمیٹی کے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق اسپیکر نے وزیراعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد کمیٹی کے لیے نام بھجوائیں۔ نام ملتے ہی 30 رکنی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں جب یہ تحریک پیش کی گئی تو پاکستان تحریک انصاف نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق کمیٹی کا مقصد انتخابی نظام میں بہتری، شفافیت اور اصلاحات کو فروغ دینا اور پارلیمانی مشاورت کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا: "ہماری کوشش ہوگی کہ انتخابی اصلاحات کے عمل میں اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی مثبت، تعمیری اور قابلِ عمل تجاویز کو مناسب اہمیت دی جائے"۔
ان کے مطابق انتخابی اصلاحات کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ مشترکہ قومی معاملہ ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
کمیٹی کے ارکان کا انتخاب مکمل نہیں ہوا اور باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں ہوا، اس لیے اس کا کام ابھی شروع نہیں ہوا۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ کمیٹی انتخابی نظام میں بہتری پر غور کرے گی جو پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو متعین کرتا ہے، اور اس کی رکنیت پارلیمنٹ میں جماعتوں کی طاقت کی عکاس ہوگی۔



