ناسا نے آرٹیمس تھری کی تفصیلات جاری کر دیں، چاند پر لینڈنگ 2028 میں
ناسا نے آرٹیمس تھری مشن کا منصوبہ بتایا ہے جس میں عملہ زمین کے مدار میں رہ کر دو تجرباتی لونر لینڈرز سے ڈاکنگ کرے گا۔ یہ مشن 2028 کے لیے مقررہ آرٹیمس فور کی چاند پر لینڈنگ کی تیاری ہے۔

- آرٹیمس تھری میں چار astronaut زمین کے نچلے مدار میں رہیں گے، چاند پر نہیں جائیں گے۔
- عملہ بلیو اوریجن اور اسپیس ایکس کے لینڈرز سے ڈاکنگ کرے گا۔
- لانچ کا ہدف 2027 کا موسمِ گرما ہے جبکہ آرٹیمس فور کی لینڈنگ 2028 میں طے ہے۔
ناسا نے اپنے اگلے انسان بردار مشن آرٹیمس تھری کی مزید تفصیلات جاری کی ہیں، جو 2027 کے موسمِ گرما میں روانہ ہونا ہے۔ یہ مشن چاند پر نہیں جائے گا۔ چار خلاباز زمین کے نچلے مدار میں پرواز کریں گے اور دو تجرباتی لونر لینڈرز سے ڈاک کریں گے، ایک بلیو اوریجن کا اور دوسرا اسپیس ایکس کا۔
ناسا نے اسے اپنا اب تک کا سب سے پیچیدہ مشن قرار دیا ہے۔ اس میں چار خلاباز، تین راکٹ لانچ، تین خلائی جہاز اور دو ڈاکنگز شامل ہیں۔ مشن 14 دن کا ہوگا جسے ضرورت پڑنے پر 17 دن تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
آغاز میں بلیو اوریجن کا نیو گلین راکٹ فلوریڈا سے اپنے بلیو مون لینڈر کے تجرباتی ماڈل کے ساتھ، بغیر عملے کے روانہ ہوگا۔ اس کے بعد ناسا کا اسپیس لانچ سسٹم کینیڈی اسپیس سینٹر سے اورائن کیپسول عملے سمیت لے جائے گا۔ پرواز کے تیسرے دن اورائن بلیو مون سے جڑے گا اور عملہ لینڈر میں داخل ہو کر دو دن اس کے نظام جانچے گا۔ انگیجیٹ کے مطابق ان میں فضا اور دباؤ، سافٹ ویئر، فلائٹ کنٹرول اور لائف سپورٹ شامل ہیں۔
پرواز کے چھٹے دن اسپیس ایکس فلوریڈا سے اپنا اسٹار شپ راکٹ چھوڑے گا۔ اس کا بالائی حصہ، جسے شپ کہا جاتا ہے، تجرباتی لینڈر ہے، تاہم اس میں ابھی لائف سپورٹ نظام نہیں لگے۔ اورائن بلیو مون سے الگ ہو کر تقریباً دو گھنٹے کے لیے شپ سے ڈاک کرے گا۔ عملہ شپ کے اندر نہیں جائے گا، صرف ڈاکنگ اور انڈاکنگ کی جانچ ہوگی۔
عملے میں کمانڈر رینڈی بریسنک، اطالوی خلائی ایجنسی کے پائلٹ لوکا پارمیتانو، اور مشن اسپیشلسٹ آندرے ڈگلس اور فرینک روبیو شامل ہیں۔ باب ہائنٹز بیک اپ ہیں۔ واپسی پر اورائن کی اپ گریڈ شدہ ہیٹ شیلڈ کا امتحان ہوگا اور نئے اورائن کریو سروائیول سسٹم سوٹس بھی آزمائے جائیں گے۔
آرٹیمس تھری اصل میں 1972 کے اپولو 17 کے بعد پہلی انسان بردار چاند لینڈنگ ہونا تھا۔ ناسا نے فروری 2026 میں منصوبہ بدلا کیونکہ اسپیس ایکس کا اسٹار شپ لینڈر تیار نہیں اور مدار میں ایندھن بھرنے کا جو طریقہ درکار ہے اس کا مظاہرہ نہیں ہوا۔ مارچ 2026 کی امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس کی رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس نے اس ٹیکنالوجی میں محدود پیش رفت کی ہے۔
28 مئی 2026 کو کیپ کیناویرل پر بلیو اوریجن کا واحد لانچ پیڈ انجن ٹیسٹ کے دوران راکٹ پھٹنے سے بری طرح متاثر ہوا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ پیڈ دسمبر یا جنوری 2027 تک تیار ہو جائے گا۔ ناسا واچ کے مطابق ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے ایک میمو میں تسلیم کیا کہ آرٹیمس تھری شیڈول سے تین ماہ پیچھے ہے۔
آرٹیمس فور کا ہدف 2028 ہے، جس میں خلاباز چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں تقریباً ایک ہفتہ قیام کریں گے۔ بی بی سی کے مطابق اس شعبے میں کئی لوگوں کو شبہ ہے کہ یہ ٹائم ٹیبل پورا ہو سکے گا۔
یہ کیوں اہم ہے
خلائی تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے پاکستانی قارئین کے لیے یہ 1972 کے بعد پہلی انسان بردار چاند لینڈنگ کے بدلتے شیڈول کی اطلاع ہے۔



