ایف نائن پارک میں ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا: محسن نقوی
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایف نائن پارک میں کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا اور نیا کنکریٹ ڈھانچہ بھی نہیں بنے گا۔ ان کے مطابق پارک میں بہتر لائٹنگ، جھیل، کافی شاپس، پیدل راستے اور ہزاروں نئے درخت ہوں گے۔

- محسن نقوی کے مطابق ایف نائن پارک میں درخت کاٹے جائیں گے نہ نیا کنکریٹ ڈھانچہ بنے گا
- منصوبے میں بہتر لائٹنگ، جھیل، کافی شاپس، بہتر پیدل راستے اور ہزاروں نئے درخت شامل ہیں
- بیان ماحولیاتی کارکن اور اسکول ٹیچر عثمان کے خدشات کے بعد آیا
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو کہا کہ اسلام آباد کے ایف نائن پارک، جس کا سرکاری نام فاطمہ جناح پارک ہے، میں ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا اور کوئی نیا کنکریٹ ڈھانچہ بھی تعمیر نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہی۔
محسن نقوی کے مطابق پارک میں بہتر لائٹنگ، جھیل، کافی شاپس اور پیدل چلنے کے بہتر راستے بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں نئے درخت بھی لگائے جائیں گے۔ ان کے بقول مقصد پارک کو مزید سرسبز، محفوظ، خوبصورت اور خاندانوں اور زائرین کے لیے زیادہ پرلطف بنانا ہے۔
یہ بیان ماحولیاتی کارکن اور اسکول ٹیچر عثمان کی انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو کے جواب میں آیا۔ عثمان نے کہا کہ تقریباً 400 ایکڑ پر پھیلا یہ پارک شہر کے ماحول اور آنے والی نسلوں کے لیے اہم ہے۔
عثمان کے مطابق پارک کے رقبے پر سالانہ تقریباً 2.45 ارب لیٹر بارش کا پانی گرتا ہے جو زمین میں جذب ہو کر زیر زمین پانی کے ذخائر میں شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ پارک کو محض ترقی کی خاطر نہ بدلا جائے، مزید درخت اور زیادہ اقسام کے پودے لگائے جائیں تاکہ ہریالی بڑھے اور ہوا بہتر ہو۔ انہوں نے بڑے ڈھانچے بنانے یا اسے بلند عمارتوں والا پارک بنانے کے بجائے درخت لگانے کا مطالبہ کیا۔
محسن نقوی نے 21 اکتوبر کو ایف نائن پارک کو لندن کے ہائیڈ پارک کی طرز پر بہتر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق حکومت پارک کی تزئین نو کے ساتھ دارالحکومت میں چار نئے پارک بھی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ معاملہ اسلام آباد میں درخت کٹائی پر کئی ماہ سے جاری تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔ سی ڈی اے نے پولن الرجی سے نمٹنے کی مہم میں 29 ہزار سے زائد کاغذی شہتوت کے درخت ہٹائے، جن میں ایف نائن پارک، شکرپڑیاں اور رہائشی سیکٹرز کے کچھ حصے شامل تھے۔ اتھارٹی کے مطابق درخت سائنسی اور قانونی بنیادوں پر ہٹائے گئے اور ان کی جگہ مقامی اور ماحول کے مطابق اقسام لگائی جائیں گی۔
اس کٹائی پر ماحولیاتی کارکنوں اور شہریوں نے تنقید کی۔ فروری میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو دیے گئے جواب میں وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ درخت کاٹنے کے لیے پیشگی منظوری لازمی ہے اور ماحولیاتی اداروں سے مطلوبہ مشاورت کے بغیر کارروائی پر تشویش ظاہر کی۔ سی ڈی اے نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ 2024 میں پارک کے مخصوص حصوں سے تقریباً 7 ہزار کاغذی شہتوت ہٹائے گئے اور بعد میں نئے پودے لگائے جائیں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
ایف نائن پارک اسلام آباد میں خاندانوں کا اہم عوامی مقام ہے اور اس کی بہتری کا منصوبہ دارالحکومت میں درخت کٹائی کے تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔



