ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان4 ذرائع سے تصدیق شدہ

سینیٹ میں محسن نقوی کی جے یو آئی پر تنقید، کامران مرتضیٰ کا جوابی الزام

وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں کہا کہ جے یو آئی نے لائن کراس کر لی ہے اور اسے جواب ملے گا۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ان پر ایوان کے وقار کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

This semicircular, half-domed chamber, located north of the Rotunda, was occupied by the Senate between 1810 and 1859. After the Senate moved to its present ch…
This semicircular, half-domed chamber, located north of the Rotunda, was occupied by the Senate between 1810 and 1859. After the Senate moved to its present ch… تصویر: USCapitol / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • نقوی نے کہا ریاست سے متعلق بیان کے بعد فضل الرحمان کے احترام کی گنجائش نہیں رہی
  • جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے نقوی پر سینیٹ کے وقار کی خلاف ورزی کا الزام لگایا
  • نقوی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بلو پاسپورٹ اور ویزا فری سفر پر بھی بات کی
70,000بلو پاسپورٹ
22,000منسوخ بلو پاسپورٹ
6 ماہگرین پاسپورٹ ریٹنگ بہتر ہونے کی مدت

وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ کے گرما گرم اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی نے لائن کراس کر لی ہے اور اب اسے جواب ملے گا۔ ان کی گفتگو پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے منسوب ریاست سے متعلق بیان کے بعد سامنے آئی۔

ڈیلی پاکستان کے مطابق نقوی نے کہا: "ریاست پر تھوکنے کی بات پر مولانا فضل الرحمان کے احترام کی کوئی گنجائش نہیں رہی"۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ مولانا کا احترام کرتے تھے مگر حالیہ بیانات سے یہ احترام متاثر ہوا۔

نقوی نے الزام لگایا کہ جے یو آئی ریاست کا ساتھ صرف اس وقت دیتی ہے جب اسے سیاسی یا مالی فائدہ ملے۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "آپ کو ریاست سے نوکری ، پیسے اور ٹکٹ نہیں ملیں گے"۔ انہوں نے جماعت پر ذاتی فائدے کے لیے مذہب کے استعمال کا الزام بھی لگایا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کئی ہفتوں سے ان پر تنقید کر رہے ہیں۔ نقوی کے مطابق جے یو آئی نے حکومت سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا کہا تھا۔

ایران کے حالیہ دورے کے بارے میں نقوی نے کہا کہ وہاں کسی معاہدے کا دعویٰ غلط ہے اور دورے کا مقصد دفاعی معاہدہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ جاری علاقائی بحران سے نمٹنے میں مدد کے لیے تہران گئے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں یہ ذمہ داری دی تھی۔

جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے نقوی پر سینیٹ کے وقار کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کئی حکومتی امور میں ان کی مداخلت پر تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ ارکان سے رابطے کر کے انہیں فضل الرحمان کے خلاف بولنے کو کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وزیر دفاع خواجہ آصف اس وقت موجود تھے جب جے یو آئی کو اقتدار میں حصہ دینے پر مبینہ بات چیت ہوئی۔

مرتضیٰ نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کے فیصلوں کی ذمہ داری اس وقت کے وزیر اعظم اور کابینہ پر ہونی چاہیے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کا تبادلہ پارلیمانی نوک جھونک ہے، کشیدگی نہیں۔

نقوی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ بلو پاسپورٹ کا فیصلہ ایوان کے اختیار میں ہے۔ ان کے مطابق 70,000 بلو پاسپورٹ ہیں، 22,000 منسوخ ہو چکے ہیں اور فی الحال معطل ہیں۔ موجودہ ارکان قومی اسمبلی کو مدت کے مطابق دیے جائیں گے اور فراڈ ختم کرنے کے لیے ای پاسپورٹ کی طرف جایا جا رہا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

حکومت اور ایک بڑی اپوزیشن جماعت کا کھلا ٹکراؤ قومی سیاست پر اثر ڈالتا ہے۔ پاسپورٹ اور ویزا سے متعلق باتیں پاکستانی مسافروں اور ارکان پارلیمنٹ سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

جے یو آئیمحسن نقویسینیٹ

اس خبر پر مزید