ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

قومی اسمبلی کمیٹی نے 49 ہزار بلیو پاسپورٹس کی تفصیل طلب کر لی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے پوچھا ہے کہ 49 ہزار بلیو پاسپورٹس میں سے کتنے پارلیمنٹیرینز اور کتنے بیوروکریٹس کے پاس ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس نے بتایا کہ ویزا فری شرائط پوری کرنے کے لیے تعداد 75 ہزار سے کم کی گئی۔

Data Page - Polycarbonate Page of Pakistani Passport
Data Page - Polycarbonate Page of Pakistani Passport تصویر: MuhammadSarimShoukat / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • کمیٹی نے 49 ہزار بلیو پاسپورٹس کی پارلیمنٹیرینز اور بیوروکریٹس میں تقسیم مانگی ہے۔
  • ڈی جی پاسپورٹس کے مطابق بلیو پاسپورٹس 75 ہزار سے کم کر کے 49 ہزار کیے گئے۔
  • سینیٹ کے منظور کردہ بل میں پارلیمنٹیرینز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز ہے۔
49,000گردش میں بلیو پاسپورٹس
75,000پہلے بلیو پاسپورٹس کی تعداد

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے ملک میں بلیو پاسپورٹس کے اجراء کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ کمیٹی نے حکام سے پوچھا کہ گردش میں موجود 49 ہزار بلیو پاسپورٹس میں سے کتنے پارلیمنٹیرینز کو اور کتنے بیوروکریٹس کو جاری کیے گئے۔

کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس نے بتایا کہ بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کر کے 49 ہزار کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ کمی مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری کیٹیگریز کی شرائط پوری کرنے کے لیے کی گئی۔

ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر اراکین قومی اسمبلی عہدے پر رہتے ہوئے بلیو پاسپورٹ رکھنا چاہیں تو موجودہ قواعد لاگو ہوں گے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی سے کہا: "مجھے اجازت دیں کہ بلیو پاسپورٹ پر حل نکال کر لاؤں"۔

یہ بحث ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سینیٹ نے حال ہی میں ایک بل متفقہ طور پر منظور کیا ہے جس میں سینیٹرز اور پارلیمنٹیرینز کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے پاسپورٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا، جس کے تحت قومی اسمبلی یا سینیٹ کا حلف اٹھانے والے ریٹائرڈ پارلیمنٹیرینز مدت پوری کریں یا نہ کریں، بلیو پاسپورٹ رکھ اور استعمال کر سکیں گے۔

مجوزہ قانون میں پارلیمنٹیرینز کے بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز شامل ہے۔ ڈیلی جنگ کے مطابق سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ گریڈ 22 کے سرکاری افسران کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ ملتا ہے، اس لیے پارلیمنٹیرینز کے بچوں کو بھی ملنا چاہیے۔

سینیٹر ناصر بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ریٹائرڈ افسران، سیکریٹریز اور ججوں کے بلیو پاسپورٹ منسوخ کیے جانے چاہئیں۔

رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کمیٹی کو مطلوبہ تفصیلات کب تک ملیں گی۔

یہ کیوں اہم ہے

بلیو پاسپورٹ سرکاری سفری دستاویز ہے اور اس کے اجراء کا طریقہ پاسپورٹ خدمات پر عوامی اعتماد پر اثر ڈالتا ہے۔ کمیٹی کی طلب کردہ تفصیل اور سینیٹ کا بل اس بات سے متعلق ہیں کہ حکومت اور پارلیمنٹ میں کس کے پاس یہ پاسپورٹ ہو سکتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

بلیو پاسپورٹقومی اسمبلیپاسپورٹ

اس خبر پر مزید