حکومت نے مصطفیٰ رمدے کو پی ایس او بورڈ کا چیئرمین مقرر کر دیا
وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹیٹ آئل کا بورڈ آف مینجمنٹ نئے سرے سے تشکیل دے کر مصطفیٰ رمدے کو چیئرمین مقرر کیا ہے۔ ان کی تقرری تین سال کے لیے ہے اور فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- مصطفیٰ رمدے تین سال کے لیے پی ایس او کے چیئرمین اور آزاد ڈائریکٹر مقرر
- تقرری فوری طور پر نافذ ہو گئی
- وہ اعزازی طور پر خدمات دیں گے اور ڈائریکٹر فیس نہیں لیں گے
وفاقی حکومت نے جمعہ کو پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس او) کا بورڈ آف مینجمنٹ نئے سرے سے تشکیل دیا۔ بزنس ریکارڈر اور 24 نیوز بزنس کے مطابق مصطفیٰ رمدے کو تین سال کی مدت کے لیے چیئرمین اور آزاد ڈائریکٹر مقرر کیا گیا، جس کا اطلاق فوری ہے۔
بیان کے مطابق مصطفیٰ رمدے کو آئینی، تجارتی اور توانائی کے شعبے کے قانون میں 28 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ اور پنجاب کے سابق ایڈووکیٹ جنرل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، بجلی کی پیداوار اور صاف توانائی کے منصوبوں کے قانونی ڈھانچے پر مشورے دیے ہیں۔ وہ تیل، گیس اور بجلی کے شعبے کے اداروں کی بین الاقوامی ثالثی میں نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ چیمبرز اینڈ پارٹنرز پاکستان میں تنازعات کے حل اور مقدمہ بازی میں انہیں اعلیٰ ترین درجے میں شمار کرتا ہے۔
مصطفیٰ رمدے پی ایس او میں اعزازی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے اور ڈائریکٹرز فیس اور کام سے متعلق اخراجات نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا: "میں کمپنی اور سب پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں پی ایس او کے کسی بھی کام کے لیے، پاکستان کے اندر ہو یا باہر، ڈائریکٹر فیس، سفر، قیام و طعام یا کوئی اور خرچ، جس کا میں حق دار ہوں، وصول نہیں کروں گا۔" (انگریزی سے ترجمہ)
نئے بورڈ میں منیب الحق، آفتاب حسین، امتیاز حسین قاضی اور محترمہ سائرہ شاہد حسین آزاد ڈائریکٹر ہیں۔
سرکاری عہدے کی بنا پر بننے والے ڈائریکٹرز میں پیٹرولیم ڈویژن، پاور ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے سیکرٹری اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے سی ای او شامل ہیں۔
24 نیوز بزنس کے مطابق پی ایس او کی انتظامیہ اور ملازمین نے مصطفیٰ رمدے اور نئے بورڈ کا خیر مقدم کیا۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 5 نومبر کو پیٹرول 352.59 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 382.25 روپے فی لیٹر تھا۔
یہ کیوں اہم ہے
پی ایس او ملک کی سرکاری ایندھن کمپنی ہے، اس لیے اس کی قیادت کا اثر پاکستانی صارفین کے لیے ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں پر پڑتا ہے۔ بورڈ میں پیٹرولیم، پاور اور فنانس ڈویژنز کے سیکرٹری شامل ہیں۔ خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 5 نومبر کو پیٹرول 352.59 روپے اور ڈیزل 382.25 روپے فی لیٹر تھا۔



