نوشہرہ میں فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ زخمی
نوشہرہ میں ہفتے کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ عادل وسیم زخمی ہوگئے۔ انہیں پشاور کے اسپتال منتقل کیا گیا اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

- اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ عادل وسیم نوشہرہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔
- انہیں پشاور کے اسپتال منتقل کیا گیا۔
- پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاحال کوئی گرفتاری سامنے نہیں آئی۔
خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں ہفتے کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ عادل وسیم زخمی ہوگئے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ان کی حالت شدید ہے۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق مسلح افراد نے ان کی سرکاری گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ پشاور کی طرف جا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق واقعہ چراٹ روڈ پر جلوزئی پناہ کوٹ کے قریب پیش آیا۔ روزنامہ جنگ نے بھی پولیس کے حوالے سے بتایا کہ وہ پشاور جاتے ہوئے نشانہ بنے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق افسر نوشہرہ میں اپنے گاؤں فاتحہ کے لیے آئے ہوئے تھے۔ زخمی افسر کو اسپتال لے جایا گیا، جبکہ ڈیلی ٹائمز اور جنگ نے بتایا کہ انہیں پشاور کے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جلوزئی کے ایس ایچ او حنیف خان بھاری پولیس نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا۔ ریسکیو 1122 نوشہرہ کے عملے کی بروقت کارروائی اور طبی امداد کو سراہا گیا۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں۔ حملہ آوروں کی تعداد نہیں بتائی گئی اور اب تک کسی گرفتاری کا اعلان نہیں ہوا۔ حکام نے افسر کی طبی حالت کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی۔
گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے فائرنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عادل وسیم کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کی اور زخمی افسر کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
ثمر ہارون بلور نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
خیبر پختونخوا میں ایک حاضر سروس اسسٹنٹ کمشنر پر حملے سے سرکاری افسران کی سلامتی اور مقامی انتظامیہ کے بارے میں تشویش بڑھتی ہے۔



